کرونا وائرس کی وجہ سے متوفی شخص کے کفن کا مسئلہ

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1114*

(کتاب الصلاۃ باب الجنازۃ)

*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے متوفی شخص کے کفن کا مسئلہ*

*سوال:* کرونا وائرس کی وجہ سے جس شخص کی وفات ہوتی ہے تو اس کو پلاسٹک میں کرکے دیتے ہیں اور عموما اس کو کھولنا منع ہوتا ہے تو اب اس کو کفن دینے کی کیا صورت ہوگی؟ (عبداللہ بہرائچ یوپی)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

مسلمان میت کو کفن دینا فرض کفایہ ہے؛ اس لیے جہاں تک ممکن ہوسکے اس فریضے کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہئے؛ اگر سرکاری عملہ پلاسٹک سے نکال کر کفن دینے کی اجازت دیتا ہے یا پلاسٹک کے اوپر سے کفن دینے کی اجازت ملتی ہے تو اس صورت میں بھی میت کو کفن دینا ہوگا، لیکن اگر سرکاری عملہ اس کی اجازت نہ دے اور صرف پلاسٹک میں دفن کرنے کو کہے یا جس چیز میں پیک ہے اسی کے ساتھ دفن کرنے کو کہے تو اس پلاسٹک کو ہی کفن کے قائم مقام مان لیا جائے گا، فقہاء کرام نے بوقت ضرورت خواتین کے لئے صرف دو کپڑے اور مردوں کے لیے صرف ایک کپڑے کے کفن کی اجازت دی ہے، نیز فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر وہ چیز جس کو بحالت حیات پہننا جائز ہے اسے کفن میں بھی استعمال کرنا جائز ہے، ظاہر ہے پلاسٹک پہننا یا پنی پہننا بحالت حیات ناجائز نہیں ہے؛ بلکہ بارش وغیرہ کے موسم میں اس کے بنے لباس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے؛ اس لئے اسی پلاسٹک کو کفن بنانے میں حرج نہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ ". وَفِيهِ عَنْ جَابِرٍ (سنن الترمذی رقم الحديث ٩٩٥ أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ مِنْهُ)

والمراد بإحسان الكفن نظافته ونقاؤه وكثافته وستره وتوسطه وكونه من جنس لباسه في الحياة لا أفخر منه ولا أحقر ، وليس المراد بإحسانه السرف والمغالاة ونفاسته. (تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي رقم الحديث ٩٩٥ أبواب الجنائز)

وهو فرض على الكفاية كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية ٢٢١/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)

و يكره الاقتصار على ثوبين لها و كذا للرجل على ثوب واحد إلا للضرورة كذا في شرح العيني (الفتاوى الهندية ٢٢١/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)

كل ما يباح لبسه في حال الحياة يباح تكفينه بعد الوفاة. (الفتاوى الهندية ٢٢٢/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 12/8/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے