شیر کی خریدوفروخت جائز ہے کیونکہ اس کا سدھانہ بھی ممکن ہے اور اس کی کھال سے فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہےاور بندر کی خرید و فروخت کے بارے میں امام ابو حنیفہ کے دو قول ملتے ہیں، پہلا قول بروایت امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ جواز کا ہے، وجہ یہ ہے کہ بندر کی کھال سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے، اور قاعدہ یہ ہے کہ ہر جان دار جس کی کھال سے استفادہ ممکن ہو اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔
جب کہ دوسرا قول بروایت امام ابو یوسف رحمہ ممانعت کا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بندر میں لہو لعب کے علاوہ کچھ نہیں، جس کی وجہ سے اس میں جہتِ حرمت غالب ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی بنوریہ
فتح القدیر شرح الہدایہ میں ہے:جلدنمبر٧صفحہ ١١٨
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????