اگر کسی نے قسم کھائی مثلاً کہ اللہ کی قسم میں فلاں کام نہیں کروں گا لیکن ساتھ ہی میں انشااللہ بھی لگا دیاپھر وہ کام کر لیتا ہے جس کے نہ کرنے کی اس نےقسم کھائی تھی تو اس پر کفارہ لازم نہیں ہےکیونکہ انشاءاللہ کی وجہ سے وہ قسم منعقد نہیں ہوئی۔
۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند
(قولہ وصل بحلفہ) قید بالوصل لأنہ لو فصل لا یفید، إلا إذا کان لتنفس أو سعال أو نحوہ، وعن ابن عباس أنہ کان یجوز الاستثناء المنفصل لستة أشہر، ویلزمہ إخراج العقود کلہا عن أن تکون ملزمة وأن لا یحتاج للمحلل الثانی لأن المطلق یستثنی، وفی المسألة حکایة الإمام مع المنصور ذکرہا فی الدرر وغیرہ (قولہ إن شاء اللہ) مفعول وصل (قولہ عبادة) کنذر وإعتاق أو معاملة کطلاق وإقرار (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتا5/527، ط:زکریا
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????