امیر ہونے کے بعد مسجد بنوانے کی نذر ماننے کا حکم

منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط نذر کے صحیح اور منعقد ہونے کی یہ بھی ہے کہ جس چیز کی نذر مانی وہ قربتِ مقصودہ میں سے ہو اگرچہ مسجد بنانا واجب تو ہے مگر چونکہ قربت مقصودہ میں سے نہیں اس لئے امیر ہو جانے پر مسجد بنوانا نذر کی حیثیت سے واجب نہ ہوگا تاہم اللہ پاک وسعت دے اور امیر بنادے اور ضرورت کی جگہ میں کہیں مسجد بنوادے تو اجر کثیر کا موجب ہوگا۔
۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند
ہٰذا صریح فی أن الشرط کون المنذور نفسہ عبادة مقصودة لا ما کان من جنسہ ولذاصححوا النذر بالوقف لان من جنسہ واجبا وہو بناء مسجد للمسلمین کما یأتی مع انک علمت ان بناء المسجد غیر مقصودة لذاتہ اھ،فتاوی شامی ص:۶۷/۳ (تحت مطلب فی احکام النذر ، ط: نعمانیہ)
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے