???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ٢٢ ذی قعدہ١٤٤٠ھ
????26جولائی2019
???? بروز۔ *جمعہ*
????کتاب الذبائح والأضحیة????
???? *حدیث النبیﷺ*
????.وَعَن رَافع بن خديج قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُوا الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْهُ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشِ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بِعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا»
ترجمہ:رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں ، جبکہ ہمارے پاس چھریاں نہیں ، کیا ہم سر کنڈے کے ساتھ ذبح کر لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھاؤ ، (جبکہ) دانت اور ناخن کے ساتھ ذبح کرنا درست نہیں(جب تک جسم کےساتھ لگےہوۓہوں) اور میں تمہیں اس کے متعلق تفصیلا بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے ، اور رہا ناخن تو وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں ۔‘‘ (کفار پر حملہ کرنے کے بعد) ہم کو اونٹ اور بکریاں ملیں ، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا تو ایک آدمی نے اس پر ایک تیر چلایا اور اسے روک لیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان جانوروں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بھاگنے والے ہوتے ہیں ، ان میں سے جو بے قابو ہو جائے تو تم اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔..أوکماقال النبی ﷺ۔
*(مشکوة شریف حدیث نمر۔۔4071۔۔)*
????????????????????????????????????????????????
????کتاب الأضحیة ????
???? *آج کامسئلہ* ????
???? *قربانی کےجانورکوفروخت کرنا* ؟????
???? ۔۔اگر مال دار آدمی یعنی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کا جانور قربانی کی نیت سے لیا تو اس کے لیے اس کو فروخت کرنا مناسب نہیں ہے، لیکن اگر فروخت کرلیا تو بیع درست ہوجائے گی، پھر اس کے بعد دوسرا جانور اس سے کم قیمت کا نہ خریدے، اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر لیا تو پہلے اور دوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہو وہ صدقہ کردینا ضروری ہے۔
اور اگر جانور قربانی کی نیت سے نہیں لیا یا اس ارادے سے لیا کہ اچھی قیمت لگے گی تو بیچ کر نفع کماؤں گا ورنہ قربانی کرلوں گا تو اس کو بیچنا اور اس کا نفع حاصل کرکے خود استعمال کرنا سب جائز ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:کتاب المسائل
???? *۔۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 321):
"(وفقير) عطف عليه (شراها لها)؛ لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها، (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا)؛ لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها.
(قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء، وهذا ظاهر الرواية؛ لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب، وهو النذر بالتضحية عرفاً، كما في البدائع”.
وفیه أیضاً (6/ 329):
"ويكره أن يبدل بها غيرها أي إذا كان غنياً، نهاية، فصار المالك مستعيناً بكل من يكون أهلاً للذبح آذناً له دلالةً اهـ”.
الفتاوى الهندية (5/ 301):
"ولو باع الأضحية جاز، خلافاً لأبي يوسف – رحمه الله تعالى -، ويشتري بقيمتها أخرى ويتصدق بفضل ما بين القيمتين۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار
HIDAYATULLAH
KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????