آج کی تاریخ

???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ٢٣ ذی قعدہ١٤٤٠ھ

???? 27جولائی2019

???? بروز۔ *سنیچر.* ؛

????کتاب الذبائح والأضحیة????
???? *حدیث النبیﷺ*
????.وَعَن كعبِ بنِ مَالك أَنه كانَ لَهُ غَنَمٌ تُرْعَى بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأمره بأكلها. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ترجمہ:کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان کی بکریاں تھی جو سلع پہاڑ پر چر رہی تھیں ، ہماری ایک لونڈی نے بکریوں میں سے ایک بکری کو مرنے کے قریب دیکھا تو اس نے ایک پتھر توڑا اور اس کے ساتھ اسے ذبح کر دیا ، انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے انہیں اس کے کھانے کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔..أوکماقال النبی ﷺ۔
*(مشکوة شریف حدیث نمر۔۔٤٠٧٢۔۔)*
????????????????????????????????????????????????
????کتاب الأضحیة ????
???? *آج کامسئلہ* ????
???? *۔۔جس جانورکےسینگ کیمیکل کےزریعہ بڑھنےنہ دیاگیاہواس جانورکی قربانی کاحکم* ؟????
???? ہر اس جانور کی قربانی جائز ہے جس کے سینگ جڑ سے نہ ٹوٹے ہوں، اسی طرح سے ان جانوروں کی قربانی بھی جائز ہے جن کے سینگ قدرتی طور پر نہ نکلے ہوں یا کسی کیمیکل کے ذریعے سینگ نکلنے کے عمل کو روک دیا گیا ہو نیز وہ جانور جن کے سینگ تراشے گئے ہوں جڑ سے نکالے نہ گئے ہوں ان کی قربانی بھی شرعاً جائز ہے۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:فتاوی شامی
???? *۔۔”قوله: ويضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، و كذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر المخ لم يجز. قهستاني. و في البدائع: إن بلغ الكسر المشاش لايجزي، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين”. فتاوی شامی(٦/ ٣٢٣، ط: سعيد۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار

HIDAYATULLAH

KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے