*اسٹوڈنٹس کیلئے لمحہ فکریہ ___!!!!*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
*حکومت کی منشاء صاف ہے، اس نے تعلیمی بجٹ گھٹایا، یونیورسٹیز کو نشانے پر لیتے ہوئے طلبہ کو اینٹی نیشنل قرار دیا، اربن نکسل اور دہشت گرد بتایا، ملک کا غدار اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ سے مخاطب کیا، ان کی حیثیت خراب کر کے معاشرے کا گرد بتلایا، اکثر و بیشتر کالجز اور یونیورسٹیز کی فیس دو گنی کر دی گئی، بجٹ ایسا کردیا گیا کہ اسی قدر میں بیرون ممالک تعلیم حاصل کیا جانا ممکن ہے، اب ہوتا یہ ہے کہ ہندوستان کے سب سے زیادہ طلبہ بیرون ممالک پڑھنے جاتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے؛ کہ وہ عالی اذہان وہیں پر ہی مقیم ہوجاتے ہیں، وہ دوبارہ ہندوستان واپس نہیں آتے، ہندوستانی پبلک کے ٹیکس اور سبسڈی سے پڑھنے کے باوجود ان کی تحقیقات دوسروں کی جاگیر بن جاتی ہیں، ان میں بہت سے NRI ہوجاتے ہیں، اور پھر ملک کی کسک، کرپشن اور بے چینی میں جیتے ہیں، مشورے دیتے ہیں؛ لیکن کچھ نہیں ہوسکتا، اب عالم اس سے بھی زیادہ پر خطر ہے، تمام تعلیم گاہین زد پر ہیں، جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ صرف JNU اور عمر خالد، کنہیا کمار کا مسئلہ ہے، تو انہوں نے دیکھ لیا؛ کہ ایسا نہیں ہے۔*
*دوسرے مرحلے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کو آڑے ہاتھ لیا گیا، اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ خاص نظریات کے لوگ ہیں، تب بہت سے لوگ خموش رہے؛ مگر اب تو JNU میں کھلے عام آگ پہونچ چکی ہے، بلکہ ملک کے ساڑھے سات ہزار سے زائد یونیورسٹیز میں بے چینی کی فضا بنی ہوئی ہے، سبھی classless ہوگئے ہیں، پرائیوٹ انسٹی ٹیوٹس کو چھوڑئے_! وے تو اپنا لائسنس بچانے میں لگے ہوئے ہیں، ان کے علاوہ سبھی اپنے حقوق کی مانگ کر رہے ہیں، سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا ساتھ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک کی یونیورسٹیز بھی دے رہی ہیں، دیس کی صف اول ان کے ساتھ ہے، بیان بازیوں کا دور ہے، عوام میں تعلیم یافتہ طبقہ اور حکومت آمنے سامنے ہے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے؛ کہ یہ تحریکیں کب تک کام کریں گی، ایک طالب علم اگر کلاس سے باہر رہے تو آخر کب تک_؟ تعلیم کو اگر سیاست سے دور کردیا جائے تب بھی بے معنی ہے، نیز صرف سیاست ہی رہ جائے اور تعلیم ندارد ہوجائے تو بھی لایعنی ہے، دماغ روشن کرنا ہے تو تعلیم کی بھی ضرورت ہے، فی الوقت یوپی، دہلی، ممبئی، آسام، بنگال اور بینگلور وغیرہ جیسے شہروں کے نامور ادارے بند ہیں، ایسے میں یہ سوال بنتا ہے؛ کہ آخر یہ بے قراری اور طلباء کی یہ بے کیفی کیسے دور ہو_ اور اس کا کیا انجام ہو_؟*
*اگر یونہی افرا تفری قائم رہی تو یقینا حکومت کی فاشزم سوچ ان پر حاوی ہوجائے گی، کیونکہ حکومت کا زور اور ABVP کی اکثریت سے یہی خطرہ ہے، ایسے میں اس کا انجام ایسا ہوگا، جس پر رونا آئے گا، سبھی کو یاد ہوگا کہ ستر کی دہائی میں JP آندولن کی کامیابی کا راز یہ بھی تھا؛ کہ وہ تحریک منظم تھی، اور سبھی ایک لیڈر کی قیادت میں آگے بڑھ رہے تھے، نیز ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے؛ کہ لگ بھگ ہر سرکار ایک جیسی ہی ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ کانگریس کے زمانے میں طلباء کی حالت بہت اچھی تھی، یا ملک کی کیفیت بہت اعلی تھی_! اب یہ مان بھی لیا جائے کہ رواں حکومت گر جائے گی تو کیا ہوگا_؟ پھر وہی کشتی کے کھنویا بدل جائیں گے، یا پتوار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں آجائے گی___ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے؛ کہ طلباء کی تحریک کو منظم کیا جائے، منتشر احتجاجات کو تقویت پہونچائی جائے، اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہ ہو، ان کے اوپر غنڈوں کی غنڈہ گردی اور پولس کی وحشتیں نہ ٹوٹ پڑیں_*
*نیز اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاست میں ایک نام پیدا کریں، ایک نیا لیڈرشپ عوام کو دیں، یہ وقت بہت اہم ہے، تحریکات بدل رہی ہیں، ہواوں کا رخ کچھ اور ہی ہے؛ چنانچہ کیا ہی بہتر ہو کہ فروری/۲۰۲۰_ دہلی کے انتخابات میں طلباء ایک اہم کردار ادا کریں، وہ سیاست کے گلیاروں میں اتر کر کام کریں اور تعلیم یافتہ رہنماؤں کیلئے کمپیننگ کریں، اس چناو میں وقت کم ہے، اس لئے ممکن ہے کہ اس میں زیادہ کچھ کرنے کا موقع نہ ملے؛ لیکن اس کی شروعات پٹنہ یونیورسٹی سے بھی کی جاسکتی ہے، اس سال کے اخیر میں صوبہ بہار میں چناو ہونا ہے، اور وہاں کے طلباء بھی بالخصوص پٹنہ یونیورسٹی کے جیالے جامعہ ملیہ_ اور جے این یو کی راہ پر گامزن ہیں_ اگر انہوں نے مورچہ سنبھال لیا تو جان لیجئے_! یہ ملک ایک نئی راہ پائے گا، سیاست بدل جائے گی، کرپشن پر کنٹرول ہوگا، تعلیم یافتہ افراد کی کھیپ نکلے گی، اور معیشت و معاشرت کے ساتھ ساتھ ملک کی سالمیت بھی یقینی ہوجائے گی۔*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
07/01/2020