طلباء پر ظلم برداشت نہیں

*طلباء پر ظلم برداشت نہیں ___!!!*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*

       *رواں حکومت کی جہالت کا اندازہ اس سے بھی لگائا جا سکتا ہے، کہ وہ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتے، بلکہ ان تمام تعلیم گاہوں کو نیست و نابود کردینا چاہتے ہیں، جہاں سے اعلی ذہن بنتے ہیں، اور شخصیتیں نکھر کر آتی ہیں، انہوں نے روز اول سے ہی انسٹیٹیوٹس کو نشانے پر لیا ہے، ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے کیبینیٹ نیتاوں نے بھی بھدے بیانات دئے ہیں، دراصل ان کو معلوم ہے کہ ۳۰۳ کی تعداد حاصل کرنے کے بعد اب اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں، ان کی پالیسیوں کے سامنے صرف گریجویٹ طلباء ہی کھڑے ہیں، اور وہ یونیورسٹیز ہیں جنہوں نے بیداری کی تعلیم پائی ہے، خود بھی ملک کی حفاظت و سالمیت کا خیال رکھا، اور ایک سے ایک نگینے دے کر ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کیا ہے، آج پھر انہیں سے خطرہ ہے، چنانچہ رہ رہ کر ان پر حملے ہوتے رہے ہیں، بی جے پی کے دوسرے ٹرم نے اور خاص طور پر CAA اور NRC کے بعد ایک روشنی اگر ظاہر ہوئی ہے، تو کالجز اور یونیورسٹیز کی چہار دیواری سے ہی اس کی جھلک آئی ہے، بالخصوص جامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی وغیرہ اس میں سر فہرست ہیں_*
       *چنانچہ انہیں کو مستقل ٹارگیٹ کیا جارہا ہے، ابھی کچھ دنوں قبل جامعہ ملیہ کے ساتھ حکومت اور پولس کی سانٹھ گانٹھ نے غنڈئی کی اور معصوم طلباء کو مار مار کر نیم جان کردیا، اب کی بار JNU کی باری ہے، کل وہاں کے طلباء و طالبات پر قہر ٹوٹ پڑا، حکومت کی سرپرستی اور پولس کی نگرانی میں سنگھ کی اسٹوڈنٹس ونگ ” اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد” ABVP کے غنڈوں نے نقاب پوش اور اسلحہ سے لیس ہو کر لاٹھی، ڈنڈوں سے مارا، طالبات کو خون آلود کردیا، تقریبا ۲۵ سے زائد زخمی ہوگئے، دو کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، انہوں نے چن چن کر مارا، جتنے بھی حکومت کے خلاف یعنی حکومت کی پالسیز اور فکر کی مزاحمت کرنے والے تھے ان سب کے کمروں میں گھس کر سر پھوڑ دئے، توڑ پھوڑ کی گئی، بہت سے نیوز چینلز نے لائیو کوریج کی ہے، جنہیں دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا؛ کہ یہ ملک تعلیم اور تعلیم گاہوں کیلئے ہے، یہ گاندھی کا ملک ہے، یہ غیر تشدد کی تعلیم دینے والا مرکز ہے، ایسی بر برتا کسی عام سڑک چھاپ غنڈے کیا کریں گے، جو انہوں نے کیا ہے، یہ طلباء نہیں بلکہ موالی تھے، اسی لئے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ۹/۱۱ کا حملہ تک کہہ دیا ہے، بہت سے ایکٹیویسٹوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ ان کی معصوم نگاہوں سے بہتے آنسو اور جسموں سے خون پر اگر آنسو نہیں نکلتے، آپ کا دل نہیں پسیجتا تو آپ اچھے انسان نہیں_*
       *یہ سب کو معلوم ہے کہ ABVP سنگھ کا ہی حصہ ہے، اسی کی سوچ و فکر کی اتباع کرتا ہے، غور کیجئے_! جب اس کے سرغنہ کے پاس ڈگری نہیں، یا فرضی سند ہے تو ان کے متبعین کے پاس ڈگری کی اہمیت کیا ہوگی_؟ بلاشبہ یہ سب تانا بانا ملک میں ہورہے احتجاجات کو روکنے اور ان کو ختم کرنے کی سازش ہے، خود امت شاہ نے کل سے دروازے دروزاے پر جاکے CAA کی اہمیت بتانے کا بیڑا اٹھایا ہے، ملک کے دیہی علاقے تو اب بھی انقلاب سے دور ہیں، وہاں تک دہلی کی ہوا نہیں پہونچی ہے؛ رہی سہی آواز تعلیم یافتہ افراد کی ہے، اور طلباء کی ہے جنہیں مار کر اور دھمکا کر ہر طرح سے روکنے کی کوشش ہے، کل کو جامعہ ملیہ ہی کی کاوشیں تھیں اور ان کے ساتھ طالمانہ رویہ تھا؛ کہ CAA کے خلاف پورے ملک میں ایک محاذ قائم ہوگیا، ہر روز احتجاجات ہورہے ہیں، ہر جگہ بھیڑ جمع ہے، سرکار کی ہوائیاں اڑ گئی ہیں، وہ سیدھے گدی سے زمین پر آ گئے ہیں، اب پھر JNU کے طلباء پر حملہ ہوا ہے، یقینا یہ چنگاری شعلہ بنے گی، اور اس تحریک کو جلا ملے گی، ایک نئی شراب اور نیا جوش ملے گا، اب تک کی خبروں کے مطابق اس کا اثر شروع ہوچکا ہے، احتجاجات میں مزید زور نظر آرہا ہے، ملک ہی کیا بیرون ملک کے اسٹوڈنٹس باہر نکل آئے ہیں، اور ملک کی سیاست کو دھچکا پہونچانے اور ان کی ڈکٹیٹرشپ کو ختم کرنے کے موڈ میں ہیں، انہوں نے طلباء کو کمزور سمجھا، نادان جانا، اب وہ پھر سے JP آندولن کو زندہ کریں گے، حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں گے، فاشزم کا جال ٹوٹے گا، سنگھ کا جادو بکھرے گا، ہندو مسلمان کی چالیں ملیامیٹ ہوجائیں گی، یہ سب کچھ ہوگا اور ضرور ہوگا_*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
06/01/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے