یوم جمعہ فضائل و احکام

از:        ظفر احمد خان ندوی 

            انجمن فلاح دارین ، شیو بزرگ

تعلقہ: کھیڈ،  ضلع رتناگری، مہاراشٹر 415709


اللہ تعالی کا ارشاد ہے "اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، تمہارے لیے یہی بات بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو”۔(سورة الجمعة:٩)

اس آیت میں نماز جمعہ کے احکام اور آداب کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔ یہاں مخاطب صرف فرزندان اسلام ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! جب تم نماز جمعہ کی اذان سنو تو جلدی سے اللہ کے ذکر کی طرف پہنچنے کی کوشش کرو اور اسی وقت خرید وفروخت بند کردو، اسعوا کا معنی دوڑنا یا بھاگنا نہیں ہے ,اس لیے علماء نے سعی کا معنی یہ کیا ہے اخلاص نيت اور عمل یعنی ارادہ کرلو اور وہاں جانے کی تیاری شروع کردو۔ 

صرف خرید وفروخت کو ختم کرنے پابند کرنے کا حکم نہیں بلکہ تمام وہ مشاغل جو جمعہ کی حاضری میں رکاوٹ بن سکیں تمام کو ترک کرنا ضروری ہے اور خرید وفروخت کا خصوصی ذکر اس لیے ہوا کہ جمعہ کے روز لوگ باہر سے آتے اور بیچنے کے لیے اپنا سامان بھی لاتے اور شہر سے اپنی ضروریات خرید کر بھی لے جاتے۔ ملحقہ بستیوں کے لوگوں کے آنے کی وجہ سے جمعہ کے دن بڑی چہل پہل ہوجاتی اور خرید وفروخت کا بازار خوب گرم ہوجاتا اس لیے خصوصیت سے وذروا البیع کا حکم فرمایا گیا ۔

یعنی خرید وفروخت اور جملہ مشاغل کو پس پشت ڈال کر مکمل تیاری سے نماز جمعہ میں حاضری تمہارے لیے تمام چیزوں سے زیادہ سود مند اور نفع بخش ہے ۔ 

جمعہ ایک عظیم نعمت:

اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو جن خصائص امتیازات اور نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے جمعہ کا دن بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کی سرفرازی سے اللہ تعالی نے ہم سے پہلے  آنے والی امتوں کو محروم رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے آنے والی امتوں کو اللہ تعالی نے جمعہ کی برکت سے محروم رکھا یہودیوں کے لیے سنیچر اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن قرار پایا لیکن اللہ تعالی نے جب ہمیں مبعوث فرمایا تو جمعہ کے دن سے سرفراز فرمایا اور ہفتے کے دنوں کی ترتیب جمعہ سنیچر اتوار کے اعتبار سے قرار پائی، قیامت کے دن بھی وہ ہمارے بعد اسی ترتیب سے آئیں گے، دنیا میں ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے یعنی سب سے پہلے ہمارا حساب و کتاب ہوگا (صحیح مسلم)، جمعہ کا دن امت محمدیہ سے قبل اللہ نے یہود ونصاریٰ کو بھی دیا تھا تو انہوں نے قیل و قال شروع کردیا اور اختلاف کرنے لگے لہذا اللہ نے یہ نعمت عظمی ان سے چھین کر امت محمدیه كو عطا فرمادیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں لیکن درجہ اور مرتبے كے اعتبار سے سب سے پہلے ہیں، یهود ونصاری كو بهلے هی کتاب هم سے پہلے ملی ہے لیکن قیامت کے دن ہم  ان سے آگے بڑھ جائیں گے، جمعہ کے دن کو اللہ نے یہود و نصاریٰ پر فرض کیا تھا لیکن ان کے اگر مگر اور اختلاف کی وجہ سے اللہ نے ہمیں اس کی توفیق بخش دی اس معاملے میں وہ ہم سے پیچھے ہیں، لہذا کل (آنے والا) یعنی سنیچر یہودیوں کا اور پرسوں یعنی اتوار عیسائیوں کے لئے ہے (صحیح بخاری)، یہودی ہمیشہ مسلمانوں سے متعدد وجوہات کی وجہ سے حسد کرتے چلے آئے ہیں ان کے حسد کرنے کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ امت محمدیہ کا جمعہ کے دن سے سرفراز ہونا بھی ہے  ایک روایت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی پانچ خاص باتوں کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں فرمایا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی تمام مقرب فرشتے، زمین،آسمان، ہوائیں پہاڑ اور سمندر جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو جائے اس لئے قیامت جمعہ کے دن هی آئے گی(ابن ماجه)

جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیا: 

اس سلسلے میں چند مشہور اقوال یہ ہیں، (1) اسلام سے قبل عربوں کے ہاں اس دن کا نام العروبہ تھا روایات کے مطابق کعب بن لوی نے اس کا نام جمعہ  تجویز کیا،  امام قرطبی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے قبل بھی اہل مدینہ اس دن عبادت کے لیے جمع ہوتے تھے جسے وہ اجتماع (جمعہ) کا نام دیتے تھے بعد میں اس کا نام جمعه پڑ گیا، (2) دوسری وجہ اس دن کا نام رکھنے کی جو ایک حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رض سے فرمایا سلمان تمہیں جمعہ کے دن کی حقیقت معلوم ہے انہوں نے فرمایا اس دن اللہ نے آپ کے والد مکرم حضرت آدم کو پیدا فرمایا "جمع اللہ فیه اباكم”(مسنداحمد)، اس مناسبت سے اس کا نام  جمعه رکھا گیا، (3) تیسری وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے معنی ہیں جمع کرنا چونکہ اس دن مسلمان کسی بڑے مرکز یا جامع مسجد میں جمع ہوتے اور مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے اس لیے اسے جمعہ کہا جاتا ہے،(4) چوتھی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کی تخلیق جمعہ کے دن مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی اس لئے اس دن کو جمعہ کہا گیا۔

                    فضائل یوم جمعہ ۔

1- سب سے بهتردن :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہترین جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اس دن وہ جنت میں داخل ہوئے اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی (مسلم)

2- سب سے افضل دن:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اسی دن ان کی وفات ہوی اسی دن صور پھونکا جائے گا چنانه اس دن كثرت کے ساتھ مجھ پر درود پڑھا کرو تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جائے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کی ہڈیاں تو چور چور ہو چکی ہوگی پھر آپ پر ہمارا درود کس طرح پیش کیا جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے انبیاء کے پاکیزہ جسموں کو زمین پر حرام کردیا ہے یعنی مرنے کے بعد انبیائے کرام کے مبارک جسم ہر طرح کی کمی بیشی سے محفوظ رہتے ہیں(سنن ابو داود)

3- تمام دنوں کا سردار:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے عظمت والا دن ہے یہ دن اللہ کے نزدیک عید الفطر و عید الاضحیٰ کے دن سے بھی زیادہ رتبے اور مرتبے والا ہے (ابن ماجہ و مسند احمد)

4- جمعہ خیروبرکت کا خصوصی تحفہ:

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ پیش کیا گیا جبریل علیہ السلام ایک سفید شیشے کی مانند اپنے ہاتھ میں لے کر آئے جس کے درمیان میں ایک سیاہ نقطہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا ہے جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ جمعۃ المبارک ہے جو کہ آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا تھا کہ آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے عید ہو اور تمہارے لئے اس میں بھلائی ہے(الترغیب والترهیب)

5- دس دنوں کے گناہوں کی معافی:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے غسل کیا اور جمعہ ادا کرنے کے لیے آیا اور اس نے نوافل ادا کئے جتنے اس کے مقدر میں تھے پھر خاموش رہا یہاں تک کہ خطبه سے فارغ ہوگیا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے درمیانی وقفے کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے بلکہ مزید تین دن کے اور بھی گناہ معاف کردیئے جائیں گے (مسلم) تین دن کا اضافہ اس لئے کہ ہر نیکی کا اجر سنا ہے اس لیے دوسرے جمعہ تک سات دن ہوتے ہیں تین دن اس میں مزید شامل کئے گئے تاکہ عشره مکمل ہوجائے

6- جمعہ جنت میں داخلہ کا سبب:

حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ جو شخص ایک دن میں پانچ کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنتیوں میں لکھ دیتے ہیں جس نے مریض کی عیادت کی اور جنازے میں شرکت کی روزہ رکھا جمعہ کے لئے پیدل چل کر گیا اور کسی اسیر کو آزاد کرا دیا (صحیح الترغیب والترهیب)

7- قبولیت کی گھڑی :

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ہوتی ہے کہ اس وقت جب کوئی بندہ اللہ سے جو کچھ طلب کرتا ہے اللہ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ کونسی گھڑی ہے آپ نے فرمایا حین تقام الصلاة الی الانصراف منها نماز کھڑی ہونے سے لے کر مکمل ہونے تک (سنن ابن ماجہ و ترمذی)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ بھی اس وقت میں کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالی اسے عطا فرما دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ یه بہت مختصر وقت هوتا ہے اس وقت سے فائدہ اٹھاؤ (صحیح بخاری)  

         دعا کی قبولیت کی گھڑی سے متعلق اهل علم نے بہت سے اقوال بیان کئے ہیں ان میں سے دو قول بہت راجح ہیں جو احادیث سے ثابت ہیں پہلا قول یہ ہے کہ امام کے ممبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز ختم ہونے تک دوسرا عصر کے بعد کا وقت ان دونوں میں بھی عصر کے بعد والا کون زیادہ راجح ہے اور خصوصیات کے ساتھ عصر کے بعد کی آخری ساعات ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا دن باره گھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے ان میں سے ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو بھی مسلمان اس میں اللہ تعالی سے سوال کر رہا ہو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرما دیتے ہیں اسے نماز عصر کے بعد آخری گھڑی میں تلاش کیا کرو (ابو داود)

8- گناہوں کے کفارہ اور مغفرت کا دن:

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان جمعہ کے روز غسل کرے مسجد جائے اور کسی کو تکلیف نہ دے پهر اگر امام نہ آیا ہوں تو جس قدر ممكن هو نماز پڑھے امام کے آنے کے بعد بیٹھ جائے اور توجہ سے خطبہ سنیں اور نماز مکمل ہونے تک خاموش رہے تو اس عمل کے بدلے اگر اس کے سارے گناہ معاف نہ بھی ہوے تو کم سے کم اس کا یہ عمل اگلے جمعه تك کے لئے کفارہ ضرور بن جائے گا (مسند احمد)

 9- جمعہ

کے دن موت حسن خاتمہ کی علامت:  

جمعہ کی مبارک ساعتوں کی برکت سے دن یا رات میں مرنے والے مسلمان بندے کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی جمعہ کے دن یارات میں دنیا سے رخصت هواسے عذاب قبر سے محفوظ کردیا جاتا ہے(مسند احمد)

10- جمعہ کی امتیازی شان:

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی دنوں کو قیامت کے دن ان کی اصل شکل میں اٹھائے گا لیکن جمعہ کو چمکدار اور روشن بنا کر اٹھائے گا جس طرح رخصتی کے وقت دولهن كو اس کی سہیلیاں گھیر لیتی ہیں اسی طرح جمعہ ادا کرنے والے اس کے اردگرد جمع ہو جائیں گے جب وہ چل رہے ہوں گے تو جمعہ ان کا راستہ روشن کرےگا ان کے رنگ برف کی طرح بالکل سفید ہونگے مشک كی طرح ان کی خوشبو مہک رہی ہوگی اور کافور کے پهاڑوں  سے گزر رہے ہیں یه لوگ اتنے خوش ہوں گے کہ نیچے نہیں دیکھ پائیں گے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ان کے اس مرتبہ کو کوئی نہیں پہنچ سکے گا لیکن صرف وہ لوگ جو اللہ کی خوشنودی کے لئے اذان کی ذمہ داری کو پورا کرتے ہیں (مستدرک حاکم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنتیوں کا داخلہ جنت میں جمعہ کے دن ہوگا

11- ہفتہ کی عید:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید بنا دیا ہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کے لئے آئے وہ غسل کرکے اور میسر ہو تو خوشبو لگا کر آئے اور تم مسواک کا بھی اہتمام کیا كرو(ابن ماجه)

12- جمعہ کے لئے پیدل جانے کا ثواب:

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن جو غسل کرے سویرے مسجد جاے اور خطیب کے قریب بیٹھے توجہ سے خطبہ سنے تو مسجد آنے والے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام وصیام کا ثواب ملے گا (مسند احمد)

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن کسی کو غسل کرایے اور خود بھی غسل کرے اور جمعہ کے لیے جلدی آئے اور ابتدائی خطبہ میں شمولیت کرے اور پیدل چل کر آئے  سوارهو كر نه آئے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے(ابوداود و ترمذی)

13- جمعہ یوم المزید ہے:

 یوم المزید یعنی جنتیوں كے لیےدیدار الہی کا دن اللہ تعالی جنتیوں کے لئے جمعہ کے دن تجلی فرماتا ہے اللہ نے فرمایا ولدینا مزید یعنی جنتیوں کے لیے جنت کی تمام نعمتوں کے علاوہ ایک اور بھی بڑی نعمت ہمارے پاس ہے اور وہ ہے دیدار الہی ایک اور جگہ ارشاد ہے للذین احسنوا الحسنی وزیادة یہاں زیادہ سے مراد دیدار الہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتیوں کو اللہ تعالی کا دیدار جنت كی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہو گا اور وہ جنت میں اللہ کا دیدار ایسے کریں گے جیسے چاند کو بغیر کسی مشقت کے دیکھتے ہیں(مسلم)

14- جمعه كے دن دین كی تكمیل:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک یہودی آدمی نے کہا کہ امیرالمومنین تو اپنی کتاب یعنی قرآن مجید میں ایک آیت کو پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دے دیتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کونسی آیت ہے تو اس یہودی نے کہا سورہ مایده كی یه آیت آج کے دن مکمل کر دیا میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو اور تمام کردی تم پر اپنی نعمت اور راضی ہوگیا میں تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس دن کا علم ہے اور اس جگہ کا بیوی میں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفات میں جمعہ کے دن قیام پذیر تھے (بخاری)

            دین مکمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آج دین حق کے تمام حدود و فرائض اور احکام وآداب مکمل کر دئے گئے ہیں اب اس میں نہ کسی کمی کا احتمال ہے اور میں کسی اضافے و زیادتی کی ضرورت باقی ہے اور اسلامی احکام کے اعتبار سے یه آخری آیت عرفه اور جمعہ کے دن  نازل ہوئی ہے اس واقعے سے جمعہ کے دن کا عید ہونا معلوم ہوا 

            یہودی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی جس میں دین کے کامل اور نعمت کے پورا ہونے کا ذکر ہے تو اتنی عظیم الشان نعمت کی خوشی اور اس کے شکرانے کے طور پر اس دن کو ہم عید کا دن قرار دے دیتے ھیں مگر تعجب ہے کہ مسلمانوں نے اس دن کو عید کا دن قرار نہیں دیا اس کے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ انہوں نے جو کچھ فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ تعالی نے خود ہی اس آیت کو ایک ایسے دن نازل فرمایا جو ایک جمعہ کا دن تھا اور دوسرے کا دن تھا تو پھر ہمیں مزید یادگاری دن قرار دینے کی کیا ضرورت تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری حج ادا فرمایا تھا وه جمعے كے دن تھا تو جمع ہونے کی وجہ سے وہ دن خود ہی افضل اور اشرف تھا دوسرے یہ کہ عرفہ اور حج کا بڑا رکن ادا ہونے والے دن کے اعتبار سے اس کی فضیلت و عظمت اور بڑھ گئی اب ان دونوں عظمت او فضیلت والے دنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لئے اور کونسا دن افضل اور عید والا ہوسکتا تھا 

15- جمعرات یا جمعہ کی شب اعمال کی پیشی:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں پیر اور جمعرات کے دن بس ہر مومن بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے اس بندے کے اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کو رہنے دو یهاں تك كه یه صلح كرلیں (مسلم)

            بعض روایات میں جمعرات کے دن کے بجائے  جمعرات کی رات یعنی شب جمعہ کا ذکر بھی آیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کی بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات کو جمعہ کی رات میں پیش کئے جاتے ہیں اور قطع رحمی کرنے والے کامل قبول نہیں کیا جاتا (مسند احمد) اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کی وجہ بھی یہی بتائی گئی ہے کہ ان دونوں میں اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں (ابوداؤد)

                 یوم جمعہ کے اعمال:

1- جمعہ کا اہتمام 

ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس دن کا اہتمام اور تکریم وتعظیم کرے اور اس دن کی فضیلتوں کو غنیمت جانے ، اللہ تعالٰی کا تقرب مختلف عبادتوں سے حاصل کرے ـ جمعہ کے مختلف آداب و احکام ہیں ـ جن کا سیکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ـ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں” یہ نبی ﷺ کی سنت ہے کہ اس دن کی تعظیم و تکریم ان عبادات کے ذریعہ کی جائے جسکی وجہ یہ عام دنوں سے ممتاز ہے ـ علماء میں یہاں تک اختلافات ہے کہ جمعہ افضل ہے یا یوم عرفہ "(زاد المعاد)، پیارے دینی بھائیو! ہم اپنے  آپ کا جائزہ لیں کہ ہم کس قدر اس دن کا اہتمام کرتے ہیں اور اس دن کے فیوض وبرکات کے حصول کے لئے اپنے نظام الاوقات میں کتنی تبدیلیاں کرتے ہیں  کتنے جمعہ بغیر کسی اہتمام کے ادا کئے اور کتنے معمولی اعذار کی بنا پر چھوڑ دئیے ـ 

2- نماز فجر کی پابندی:

جمعہ کے فضائل اور اس کی شان و عظمت اور اجر و ثواب کے حصول کے لیے جمعرات ہی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے اور رات کو جلدی سو جانا چاہیے تاکہ صبح وقت پر بیدار ہوکر فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے میں آسانی ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تعالی کے نزدیک سب سے افضل نماز جمعہ کے دن فجر کی باجماعت نماز ہے” 

 3-  فجر میں سورہ سجدہ و دہر کی تلاوت 

جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورہ دہر کی تلاوت کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے ،(صحیح بخاری)

4- رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے دورود : 

اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا

”تمام دنوں میں افضل ترین دن جمعہ کا دن ہے اس لئے کہ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کے گئے ، اور اسی دن انکا انتقال ہو ا ، اور اسی دن صور میں پھونکا جائے گا ، اور اسی دن قیامت کی بے ہوشی قائم ہوگی ، تم اس دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو ، کیونکہ تمہار درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ”(ابوداود)، ایک دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اور رات کو مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے (سنن البیهقی)

        علامہ ابن قیم جوزی رحمۃ اللہ فرماتے هیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے سردار هیں اور جمعہ دنوں کا سردار چنانچہ اس دن آپ پر درود پڑھنے کی ایک امتیازی شان ہے اس میں ایک حکمت یہ بھی پوشیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امت کو دنیا و آخرت میں جو بھی بھلائی ملی ہے وہ آپ ہی کے ذریعے ملی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے دنیا و آخرت کی بھلائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے آپ کی امت کو دی ہے اور انہیں جو سب سے بڑی عزت واحترام كی جگه  ملنے والی ہے وه جمعه هی كے روز ملے گی اس جمعہ کے روز ہی وه جنت میںاپنے انے ٹھكانوں اور محلات میں  پہنچیں گے جب وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو یہی دن ان کے لئے یوم المزید کہلائے گا اور دنیا میں اہل ایمان کے عید بھی اسی دن ہوتی ہے اسی دن اللہ تعالی اهل  جنت كی ہر خواہش کو پورا کریں گے اور ان کا کوئی سوال نامراد نہیں ہوگا یہ سب اعزازواکرام اہل ایمان کو آپ کے ذریعے ملے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ آپ کی ثنا صرف اسی شکل میں ممکن ہے اور آپ کے جملہ حقوق میں سے کسی قدر ادائیگی کی بھی صرف یہی شکل ہے کہ اس دن اور رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھا جائے (زادالمعاد)

5- غسل کا اہتمام:

یہ بات گزر چکی ہے کہ جمعہ کا دن امت محمدیہ کے لیے ایک طرح سے ہفتہ وار عید اور  زیب و زینت کا دن ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان جمعہ کے دن صفائی ستھرائی حاصل کرے اور شرعی حدود میں رہ کر زیب و زینت کا اہتمام کرے جس میں جمعہ کے دن غسل کرنا بھی داخل ہے اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے خاص طور سے ان چیزوں کی فضیلت و اہمیت ہے متعدد احادیث و روایات میں جمعہ کے دن غسل کرنے کا حکم آیا ہے 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے لیے ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہفتے بھر میں ایک دن غسل کرے (بخاری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لیے ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہر سات دن میں ایک مرتبہ غسل کریں اس میں اہتمام کے ساتھ اپنے سر اور پورے جسم کو دھوئے (مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہر سات دن میں ایک مرتبہ غسل کرے جس طرح اہتمام کے ساتھ جناب تو ناپاکی کا غسل کیا جاتا ہے اس میں اپنے پورے جسم اور سر کو دھوئے یہ غسل جمعه كےدن  کرے(ابوداود)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرے (بخاری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ہر بالغ كو غسل اور مسواک کرنا چاہیے اور یہ بهی كه حسب استطاعت خوشبو بھی لگائے (مسنداحمد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوست نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی کیمیاكه میں  انہیں کبھی نہ چھوڑوں ایک تو جمعہ کے دن غسل کرنے کی دوسرے ہر مہینے 3 روزے رکھنے کی اور تیسرے سونے سے پہلے بھی وتر پڑهنے کی (مسند احمد)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جمعہ کی نماز میں کیوں دیر سے آئے تو اس آدمی نے عرض کیا میں نے تو اذان سنتے ہی وضو کیا اور پھر حاضر ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نهیں سنا كه جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرلے (بخاری) یعنی اگر چه جمعہ کے دن عام حالات میں غسل کرنا فرض یا واجب نہیں بلکہ سنت و مستحب ہے لیکن جب تک کوئی عذر نہ ہو جمعہ کے دن غسل ترک نہیں کرنا چاہئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے مبارک دور میں اس روز شاید ہی كوی غسل کے بارے میں کوتاہی کرتا ہو کیوں کہ وہ جمعہ کے دن غسل کرنے کو بہت اہم سمجھتے تھے لہذا ہر مسلمان کو  کم سے کم جمعہ کے دن ضرور غسل کرنا چاہیے

6- عمده لباس پہننا اور خوشبو لگانا:

 جمعہ کے دن اپنے پاس موجود اچھا لباس پہننا اور خوشبو میسر ہو تو اس کو لگانا بھی اجر ثواب اور فضیلت کا باعث ہے کی احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کے جس پر چیتے کی کھال جیسی چتکبری یادگار چادر دیکھیں جو کام کی وجہ سے میں نے اور پسینے میں شرابور تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس اگر گنجائش ہو تو ایک جوڑا کپڑا جمعہ کے لیے مخصوص کر لینے میں کوئی حرج نہیں جو روزانہ کاروبار میں استعمال ہونے والے ایک جوڑے کپڑے کے علاوہ هوں (ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور مسواک کی اور اگر اس کے پاس ہو تو اس کو لگایا اور اچھا لباس پہنا پھر مسجد کی طرف آیا اور لوگوں کی گردنوں کو نہیں پهلاندا پھر اللہ کی توفیق سے جتنی نماز ممکن ہوئی وہ پڑھیں پھر امام کے آنے کے بعد خاموش رہا یہاں تک کہ نماز پڑھ لی تو اس کے اس جملے سے گزشتہ جمعے تک کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا(ابن حبان)

بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جمعہ کے دن غسل کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ اچھے و عمدہ کپڑے پہننے کا  اہتمام کرتے ہیں بلکہ میلے کچیلے یا پھر روزانہ استعمال والے کپڑے پہن کر جمعہ کے لیے آجاتے ہیں ایسی صورت میں نماز جمعہ کی صحت پر تو کوئی فرق نہیں آتا مگر جمعہ کے لئے عمدہ لباس پر موجود ہو اور نہ ہو تو اسے پہن کر کے جمعہ کی نماز کے لیے انا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام اور زیادہ اجر و فضیلت کا باعث ہے

7- سورۃ الکہف کی تلاوت:

جمعہ کے دن یا رات کو سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکھف کی تلاوت کی  دو جمعہ کے درمیانی وقفے میں اس کے لیے نور ہی نور ہوگا 

(مستدرك حاكم)       

  ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس میں جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کی اس کے مقام سے لے کر خانہ کعبہ کا اس کے لئے سارا راستہ منور ہوجائے گا (سنن بیهقی)

 سکینہ کا نزول :

حضرت براء بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک شخص سـورة الكہف پڑھ رہا تها ، اور اس کے پاس دو رسیوں میں ایک گهوڑا بندها ہوا تها ، پس اس شخص کو بادل نے ڈهانپ دیا اور وه اس کے قریب تر ہوگیا ، اب اس کا گهوڑا بدکنے لگا ، تو جب صبح کی تو حضور صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ، پس حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وه سکینہ تها جو قرآن کی تلاوت کے باعث نازل ہوا(بخاري مسلم)

 سورة  الکہف پڑهنے کی فضیلت:

حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکہف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہو جاتی ہے. حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ : جس شخص نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی اس کے لیے دوجمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے(رواه البيهقي ومشكاة المصابيح)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی تو اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور ان دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں

(الترغيب والترهيب)

دجال کے فتنہ سے حفاظت:

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ســورة الكهـف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرے ، وہ دجال کے فتنہ سے بچے گا . ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے سورۃ الکہف کی آخری دس آیات پڑھ  لیں پهر دجال نکل گیا تو دجال اس پر مسلط نہیں ہوگا . اورایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے ســورة الكهـف کی ابتدائ تین آیات حفظ کرلیں تو وه دجال کے فتنہ سے محفوظ رهے گا

(ترمذي )

6- جلدمسجدجانے كی فضیلت:

جمعہ کے دن جس قدر جلدی ممکن ہو نماز جمعہ کے لئے جانا چاہیے کیونکہ جتنی جلدی انسان نماز كے لیے جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اللہ کے فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور نمازیوں میں سے باری باری آنے والوں کو لکھتے ہیں سب  سے پہلے داخل ہونے والے کے ثواب کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اونٹ کی قربانی دوسرے کی ایسے جیسے کسی نے گائے کی قربانی دی چرمین آفر مرغی کا صدقہ پھر انڈا صدقہ کرنے کے برابر اس کے بعد جب امام آ جاتا ہے یعنی خطبہ شروع ہو جاتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر لپیٹ کرخطبہ سننا شروع کر دیتے هیں(بخاری ومشكاة)

          دوسری احادیث میں ثواب کی اس ترتیب کو اول دوم تا پنجم نمازی سے نہیں بلکہ پہلی گھڑی میں دوسری گهڑی میں اور یہاں تک کہ پانچویں گھڑی میں داخل ہونے والے نمازیوں کے ساتھ خاص کیا گیا ہے(بخاری)

           اس حدیث سے معلوم ہوتا کہ ثواب کے یہ پانچ مراتب صرف پانچ نمازیوں کو نہیں بلکہ مذکورہ پانچ وقتوں میں داخل ہونے والے بے شمار نمازیوں کو درجہ بدرجہ حاصل ہوں گے یہ اللہ کا فضل هے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔

7- نماز کے لئے اطمینان سے جانا:

نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی تکبیر ہو جائے تو تم (جماعت میں شامل ہونے کے لئے ) دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ وقار و طمانیت کے ساتھ اپنی چال آؤ، جس قدر نماز تم کو (امام کے ساتھ) مل جائے پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے (امام کے سلام کے بعد اٹھ کر) اسے پوری کر لو (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کو (حکماً) نماز ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے۔”(مشکات)،

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب نماز کھڑی ہو جاتی ہے تو وہ لوگ جو دیر سے مسجد پہنچتے ہیں نماز میں شامل ہونے کے لئے اور خصوصاً اس وقت جب کہ امام رکوع میں چلا جاتا ہے بہت بے تکے طریقے سے بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور نماز میں شریک ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کو اس حدیث سے متنبہ ہونا چاہئے کہ ان کا یہ طریقہ سراسر منشاء شریعت کے خلاف ہے۔ چنانچہ نہ صرف یہ کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہو جانے پر بھاگ کر آنا جائز نہیں ہے بلکہ علماء کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ نماز کے لئے دوڑ کر آنا کمزوری عقل اور غفلت کی علامت ہے کیونکہ نماز کے لئے مستعدی اور چستی اس طرح تو شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہوگی کہ اگر کسی کو تکبیر اولیٰ کے فوت ہونے یا کسی رکعت کے چھوڑ جانے کا خوف ہو تو وہ پہلے ہی جلدی کر لیا کرے اور جماعت شروع ہونے سے پہلے مسجد پہنچ جایا کرے۔ (حضرت شیخ عبدالحق)۔

ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کرام کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر کسی آدمی کو تکبیر اولیٰ کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ دوڑتا ہوا آئے یا نہیں؟ چنانچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ ایسا آدمی دوڑ کر آسکتا ہے کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بقیع میں تھے کہ انہوں نے مسجد سے تکبیر کی آواز سنی تو دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آئے۔

اور بعض علماء نے یہ مناسب قرار دیا ہے کہ ایسے آدمی کو اس حدیث کے پیش نظر وقار و طمانیت کے ساتھ ہی چل کر مسجد آنا چاہئے کیونکہ جو آدمی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو گویا وہ نماز ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہوگا جو نادانستہ یا کسی مجبوری و معذوری کی بناء پر لیٹ ہو جائے ورنہ اگر کوئ

ی آدمی دانستہ نماز میں آنے کے لئے دیر کرے تو وہ اس میں شامل نہیں۔

بہر حال اس سلسلے میں صحیح اور مناسب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی تاخیر سے مسجد میں پہنچے تو اسے چاہئے کہ وہ جماعت میں شریک ہونے کے لئے وقار و طمانیت کے ساتھ تیز تیز چل کر آئے بالکل بے تکے طریقے سے دوڑتا ہوا نہ آئے تاکہ اس حدیث پر عمل بھی ہو جائے اور تکبیر اولیٰ کا ثواب بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ اسی طرح نماز جمعہ کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر کسی آدمی کو مسجد پہنچنے میں دیر ہو جائے اور اس بات کا یقین ہو کہ اگر جلدی نہ کی تو امام سلام پھیر دے گا اور میں نماز سے رہ جاؤں گا تو اسے تیزی سے آکر امام کے ساتھ نماز میں شریک ہو جانا چاہئے۔

8- تحیة المسجد:

مسجد میں داخل ہونے کے بعد ہر حال میں دو رکعت نماز پڑھ کر بیٹھنا چاہئے چاہے امام خطبہ ہی دے رہا ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز ضرور پڑھ لے (صحیح بخاری)

         اس حدیث میں ایک عمومی بات کہی گئی ہے کہ آدمی جب مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد کے پڑھ لے اس کے علاوہ متعدد احادیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آدمی اگر ایسے وقت میں مسجد میں داخل ہوں جب امام خطبہ دے رہا ہو تب بھی اسے دو رکعت پڑھے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے فلاں کیا آپ نے نماز پڑھ لی اس نے عرض کیا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھ لیجئے (بخاری)

       سلیك غطفانی جمعہ کے دن آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو سلیك بیٹھ گیے اور نماز نہیں پڑھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ نے دو رکعت پڑھ لی انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اٹھ کردو ركعتیں پڑھ لیں(مسلم)

          حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبے کے لئے نکل چکا ہو تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھے (مسلم)

          حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلیك غطفانی تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے کچھ نماز پڑھی انہوں نے عرض کیا کہ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہلکی پھلکی دورکعتیں پڑھ لو (ابوداود)

         حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پھر ایک دیہاتی داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف فرما تھے پھر وہ دیہاتی لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا تو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو رکعت پڑھ لیں پھر اس میں دو رکعتیں پڑھیں (مسند احمد) 

         اس کے علاوہ اور بھی احادیث و روایات کتب احادیث میں موجود ہیں جن سے خطبے کے دوران مسجد میں داخل ہونے والے کے لیے ہلکی پھلکی دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے

           اس سلسلے میں ائمہ کرام کے درمیان اختلاف بهی پایا جاتا ہے چنانچہ شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسجد میں ایسے وقت میں داخل ہو جب کہ امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو تو ایسی حالت میں داخل ہونے والے کو بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد مسجد کی دو رکعت مختصر انداز میں پڑھ لینا چاہیے پھر خطبہ سننے میں مشغول ہونا چاہیے جبکہ احناف اور مالکیہ کے نزدیک خطبہ ہوتے وقت مسجد میں داخل ہونے والے شخص کے لیے تحیۃ المسجد کا پڑھنا مکروہ اور ممنوع ہے بلکہ ایسی حالت میں مسجد میں داخل ہو کر بیٹھ جانا چاہیے اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جانا چاہیے

9-امام کے آنے تک ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا:

       متعدد روایات و احادیث میں نماز جمعه كے لےمسجد حاضری کے بعد مختلف اعمال کی بہتر ادائیگی کے لئے خاموشی کی شرط لگائی گئی ہے لہذا جو بھی امام کے آنے سے پہلے مسجد پہنچا ہے جس قدر ممکن ہو سکے ذکراذکار اور تلاوت و نوافل میں مشغول رہے لیکن امام کے آنے کے بعد خاموشی اختیار کر لے لیکن جو شخص خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں پہنچے وہ تو ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھ کر خطبہ سننے میں مشغول ہو جائے

10- امام سے قریب ہو کر بیٹھنا:

متعدد احادیث میں جمعہ کے لیے جلدی پہنچنے اور امام سے قریب ہوكر بیٹھنے کی فضیلت آئی ہے  اس لیے کہ جب آدمی امام سے قریب ہو کر بیٹھے گا تو خطبے کو اچھی طرح سے سمجھ سکے گا 

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی ادائیگی کے لیے پہنچو اور امام سے قریب ہو کر بیٹھو آدمی جتنا امام سے دور ہوتا چلا 

ہے اسی اعتبار سے وہ جنت میں پیچھے رہ جاتا ہے خواه بالآخر  وہ جنت میں داخل ہو ہی جائے (مسند احمد)

      نماز جمعہ کے لئے جلد سے جلد پہنچ کر امام سے قریب تر ہو کر بیٹھنے کی ترغیب ایک دوسری حدیث میں بہت تفصیل سے بیان ہوئی ہے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لئے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہنچا تو تین آدمی پہلے سے پہنچے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا چار میں سے چوتھا ہوں اور چوتھا آدمی بھی دور نہیں ہوتا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے لوگ جس طرح جمعہ کے لئے جاتے ہیں اسی اعتبار سے خیانت کے دن اللہ کے قریب بیٹھے گے سب سے پہلے آنے والا اس کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والا پھر تیسرا آنے والا فرمایا آنے والا نمبر پر آنے والا کبھی دور تو نہیں ہوتا (ابن ماجہ)

11- توجہ سے خطبہ سننا:

دوران خطبہ پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ امام کی طرف رخ کرکے بیٹھنا چاہئے کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت عدی بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے ممبر پر تشریف لے آتے تھے تو ہم لوگ آپ کی طرف کرکے بیٹھ جاتے تھے دوران خطبہ اپنے جسم کپڑے یا کسی دوسری چیز سے مشغلہ کرنا جمعہ کے ثواب کو ضائع کر دیتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر نماز جمعہ کے لئے آیا توجہ سے سنا اور خاموش رہا تو اس کے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اور تین دن زیادہ کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں سے کھیلا اس نے جمعہ کا اجر و ثواب ضائع کردیا (صحیح مسلم)

ایک اور روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دوسرے شخص کو جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا تھا یہ کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو اس میں لقوہ حرکت کی (مسند احمد)

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کے خطبہ دینے کے وقت زبان سے کسی کو خاموش رہنے کے لیے کہنا بھی لغو حرکت میں داخل ہے البتہ اگر ضرورت ہو تو اشارے سے منع کرنا مناسب ہے ان احادیث سے جمعہ کے خطبے کے وقت خاموش رہنے کی تاکید اہمیت معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خاموشی اختیار کرنے پر عظیم اجروثواب حاصل ہوتا ہے 

     حضرت ابو درداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جمعہ کے روز ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ایک آیت تلاوت فرمائی میرے ساتھ ابی بن كعب تشریف فرما تھے میں نے ان سے کہا کہ ابی یہ آیت کب نازل ہوئی ہے انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کردیا پھر میں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا ہے پھر انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوکر ممبر سے اتر گئے پھر مجھ سے حضرت ابی نے فرمایا کہ آپ کا جمعه لغو ہوگیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو میں آپ کے پاس گیا اور آپ کو اس بات کی خبر دی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے ایک آیت تلاوت کی اور میرے برابر میں ابی ابن کعب تھے تو میں نے ان سے سوال کیا كه یه آیت کب نازل ہوئی مگر انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ آپ خطبے سے فارغ ہوکر ممبر سے سے اتر گئے ابی بن كعب كا یه  خیال کا یہ خیال ہے کہ میرا جمعہ یعنی اس کا ثواب  لغوہوگیا  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابی نےسچ كها جب آپ اپنے امام کو خطبہ دیتے ہوئے سنیں آپ اس کے فارغ ہونے تک خاموش رہیں  (مسند احمد) یعنی خطبے کے دوران ایک دینی بات معلوم کرنے کو بھی لفظ اور نماز کے ثواب سے محروم کرنے والا عمل قرار دے دیا گیا جس سے خطبے کے دوران خاموش رہنے کی تاکید اور اہمیت بڑھ جاتی ہے 

             یعنی جس وقت امام خطبہ دے رہا ہو اس وقت خطبے کے دوران حاضرین کو زبان سے کلام وگفتگو کرنا کوئی تسبیح یا ذکرواذکار کرنا یا زبان کے ذریعے کسی بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا کھانا پینا اور لکھنا پڑھنا سب ناجائز ہو جاتا ہے اسی طرح خطبے کے دوران كوی لغو حرکت کرنا اور امام و خطیب کے علاوہ دائیں بائیں دیکھنا اور متوجہ ہونا اور لوگوں کو گردنوں کو پھلانگنا بھی مکروہ کہلاتا ہے اللہ تعالی خطبہ کے احکام و مسائل کو سمجھنے اور اس کی برکات کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم تمام حضرات کو پابندی کے ساتھ نماز جمعہ اور مکمل خطبے میں حاضری کی توفیق عطا فرمائے اور خطبے میں شرکت سے محروم نہ فرمائے آمین

      حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پهلانگتا ہوا آ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخاطب کرکے فرمایا اجلس فقد آذیت بیٹھ جاؤ تم نے دوسروں کو پریشان کردیا (مسند احمد) 

       ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے فضول بات کی اور لو

گوں کی گردنیں فنا گی اس کا جمعہ ظہر ہوگیا یعنی اسے صرف نماز ظہر کا ثواب ملے گا (سنن ابو داود)

12- نماز جمعہ میں مسنون قرات:

نماز جمعہ کی صرف دو رکعت ا ہے اور وہ جہری یعنی اس میں  بآواز بلند قرات کی جاتی ہیں ان دونوں قاتلوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت یا قرآن کا کوئی بھی حصہ پڑھا جا سکتا ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ اعلی اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ کی تلاوت کی جائے  حضرت محمد بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ کی نماز میں سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ پڑھا کرتے تھے(صحیح مسلم وترمذی)

جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھنا بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ نماز جمعہ پڑھائی اور اس میں صور جمعہ تلاوت کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کی نماز میں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے (صحیح مسلم)

        نماز جمعہ میں ان سورتوں کو نا مکمل پڑھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں لیکن سنتوں سے محبت اور عزیمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو مکمل پڑھا جائے تاکہ سنت پر عمل کے ثواب سے محروم رہنے کا خدشہ نہ ہو

13- نماز جمعه كی سنن ونوافل:

نماز جمعہ کے لیے مسجد میں پہنچنے پر خطبہ شروع ہوا ہو تو نمازی کو اجازت ہے کہ جتنے چاہیے سنن ونوافل ادا کرے کیوں کہ جمعہ سے پہلے سنن و نوافل کی کوئی تعداد مقرر نہیں بلکہ آداب مستحبات جمعہ کے زمانے میں جتنی بھی احادیث گزری ہیں ان سب میں یہی مذکور ہے کہ اسے جتنی اللہ توفیق دے نماز پڑھے

       اگر مسجد میں جمعہ کے بعد سنت ادا کریں تو چار رکعت اور گھر میں ادا کرنا چاہیں تو صرف دو رکعت پڑھیں ۔ مسجد میں چھ رکعت بھی سنت ادا کرسکتے ہیں جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے تاہم گھر میں ادا کرتے وقت دو رکعتیں ہیں ۔یعنی نماز جمعہ سے پہلے کوئی سنت نہیں ہے صرف دو رکعت تحیۃ المسجد ہے البتہ نفل کے طور پر کوئی جس قدر چاہے پڑھے اس کی تحدید نہیں ہے اور نماز جمعہ کے بعد سنت نماز دو ، چار اور چھ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے لہذا کوئی دو پڑھ لے یا کوئی چار اور کوئی چھ پڑھ لے سارے طریقے درست ہیں ۔

                    جمعہ کی خصوصیات

1- یوم جمعہ اس امت کے لئے عید کا دن ہے

2- صرف جمعہ کے دن کو روزے اور رات کو قیام کے لئے مخصوص کر لینا مکروہ ہے

3- نماز فجر میں سورہ سجدہ اور دہر کی تلاوت مستحب ہے

4- اللہ کے نزدیک جمعہ کے دن فجر کی سب سے افضل نماز هے

5- جمعہ مساکین کا حج ہے

6- نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون کی تلاوت مسنون ہے

7- جمعہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں  جہری تلاوت ہوتی ہے

8- جمعہ چھوڑنے والوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے ان کو جلا ڈالنے کی بات کہی

9- مسلسل تین جمعہ چھوڑنے والوں کے دلوں پر اللہ مہر لگا دیتا ہے ان کا شمار غافلوں میں ہوتا ہے

10- نماز جمعہ میں خطبے کی بڑی اہمیت ہے

11- خطبے کے وقت خاموشی اختیار کرنا لازم ہے 12- جمعہ کے دن زوال نہیں ہے

13- جمعہ کے علاوہ روز جہنم کو دهكایا جاتا ہے

14- جمعہ کے دن غسل کرنا مستحب ہے

15- جمعہ کے دن مسواک کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے

16- جمعہ کے دن اچھے لباس پہننے کی تاکید کی گئی ہے

17- نماز جمعہ کے لئے جلدی جانا باعث اجروثواب ہے

18- جمعہ کے دن کھانا اور قیلولہ جمعہ کی نماز کے بعد کرنا مستحب ہے

19- نماز جمعہ کے لیے جانے والے کو ہر قدم پر ایک سال کے عمل کے برابر نیکی ملتی ہے

20- جمعہ کے لئے دو اذانیں ہیں باقی اور کسی نماز کے لئے نہیں

21- امام کے آنے تک ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا چاہیے

22- جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے والے کے لیے نور ہی نور ہے

23- جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل سفر کرنا درست نہیں ہے

24- جمعہ گناہوں کے کفارہ اور مغفرت کا ذریعہ ہے

25- جمعہ کے دن موت حسن خاتمہ کی علامت اور عذاب قبر سے حفاظت کا ذریعہ ہے

26- جمعہ کے دن اہل برزخ کا عذاب ہلکا کر دیا جاتا ہے

27- جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے

28- جمعہ جنتیوں کے لیے دیدار الہی کا دن ہے

29- سات دنوں میں سے قرآن میں صرف جمعہ کا ذکر ہے

30- جمعہ مغفرت کا دن ہے

31- جمعہ کے دن ایک گھڑی کو قبولیت کی ہوتی ہے

32- جمعہ کے دن صدقہ کا ثواب دوسرے دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے

33- جمعہ کے دن سورہ یاسین اور سورت دخان کی تلاوت مغفرت کا سبب ہے

34- جمعہ کے دن بکثرت ذکر و اذکار موجب بخشش ہے

35- جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنا فضائل کا ذریعہ ہے

36- جمعہ کے دن مریض کی عیادت اور جنازے میں شرکت موجب جنت ہے

37- جمعہ کے ہر ہر ساعت اللہ کے فضل تلاش کرنے کی گھڑی ہے

38- نماز جمعہ کے بعد عصر کا انتظار کرنا عمرے کے برابر ثواب ہے

39- جمعہ کے دن قبروں کی زیارت کرنے والوں کے متعلق میت کو معلوم ہوتا ہے

40- بدھ جمعرات جمعہ کا ایک ساتھ روزہ رکھنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے

41-جمعہ کے دن حجامہ کروانے سے بچنا چاہیے

42- جمعہ کی رات میں مرنے والا شہید کے درجے میں ہے

43- جمعہ کی رات کو سفر کرنا مستحب ہے

44- قیامت کے دن جمعہ کو چمکدار اور روشن بنا کر لایا جائے گا

45- جمعہ کو یوم شاہد کہا جاتا ہے

46- جنات اور انسان کے علاوہ جمعہ کے دن سے سب گھبراتے ہیں

47- امت محمدیہ کے لیے اللہ کی طرف سے جمعہ ایک عظیم نعمت ہے

48- جمعہ کو اللہ نے مسلمانوں کے لئے اجتماع کا دن بنایا ہے

49- اللہ نے یہود و نصاریٰ کو جمعہ کے دن سے محروم رکھا

50- جمعہ کی نماز ایک مستقل عبادت ہے یہ ظہر کا بدل نہیں هے ۔

           

               جمعہ کے دن کی بعض غلطیاں

جمعہ کا دن ایک عظیم دن اور امت محمدیہ کے لیے تحفہ خداوندی ہے یہ ہفتے کیلئے ہے اس میں نماز جمعہ جیسی اہم عبادت ہے اس کے باوجود بہت سارے حضرات غلطیاں کرتے ہیں ان غلطیوں سے بچنے اور انتباه کے لئے ان کا ذکر کیا جاتا ہے

1- اس دن کے بهت سارے فضائل جیسے دعا کی قبولیت کی گھڑی اور سورہ کہف کی تلاوت کے متعدد اهم فوائد کے باوجود بہت سارے لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں جو دین کے تئیں ان کے عدم محبت کو ظاہر کرتا ہے

2- جمعہ کی نماز سے قبل اہل وعیال یا دوست و احباب کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے نکلنا اور مقام تفریح سے قریب مسجد نہ ہونے اور دیگر بہانے بنا کر جمعه کو چھوڑ دینا

3- یوم جمعہ کی ایک خصوصیت خطبہ جمعہ اس اهم خصوصیت کے باوجود خطبہ اور نماز میں تاخیر کرنا جیسا کہ بعض لوگ دوران خطبہ یا اختتام پر پہنچتے ہیں اور جمعہ کے اجر کو ضائع کر دیتے ہیں

4- غسل زیب و زینت خوشبو کا استعمال اور اچھے لباس کا استعمال بلا سبب ترک کر دینا جیسا کہ بعض لوگ گندے یا غیر مناسب بدبودار کپڑے پہن کر آتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے

5- نماز جمعہ سے قبل خریدوفروخت یا شاپنگ میں اس قدر منہمک ہوجانا کہ اذان ثانی ہوجائے حالانکہ یہ قرآن کے مطابق ناجائز ہے

6- سات سال سے کم عمر بچوں کو مسجد میں لانا

7- مسجد میں اپنے لئے کوئی جگہ خاص کر لینا

8- مسجد میں جلدی آ جانے کے بعد بھی بغیر کسی عذر کے پیچھے بیٹھنا

9- دوران خطبہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد نہ پڑھنا

10- اذان کے وقت مسجد میں داخل ہونے پر اذان کا جواب دینے کی نیت سے تحیۃالمسجد میں تاخیر کرنا حالانکہ اذان کا جواب سنت ہے اور خطبہ کے وقت خاموشی واجب ہے اور واجب سنت پر مقدم ہے

11- تاخیر سے آنے پر لوگوں کے گردنیں پهلانگنا البتہ اگر آگے جگہ خالی ہو تو لوگوں کو تکلیف دیئے بغیر آگے چلے جانا چاہیے

12- خطبے سے قبل بلند آواز سے ذکر یا تلاوت کرنا جو بعض اوقات دوسروں کی تکلیف کا سبب ہوتا ہے

13- دوران خطبہ بات کرنا یا موبائل میں مشغول رہنا جیسا کہ اکثر نوجوان لوگ کرتے ہیں اور بعض نادان بھی مسجد کے آخری حصے میں ایسا کرتے نظر آتے ہیں

14- اقامت کے وقت پیچھے بیٹھے لوگوں کا اگلی صفوں میں جانے کے لیے دوڑ بھاگ کر کے آگے والے نمازیوں کو پریشان کرنا اگر آگے جگہ ہو تو ترتیب سے آگے بڑھتے جائیں

15- اندر جگہ ہونے کے باوجود مسجد کے باہر نماز پڑھنا جس سے صفوں کا ارتباط ٹوٹ جاتا ہے

16- دوستونوں کے درمیان نماز پڑھنا اگر بہت بھی لہو تو ایسا کر سکتے ہیں

17- خطبہ سے قبل مسجد میں آنے والے کا دو خطبوں کے درمیان نفل پڑھنا ایسا کرنا درست نہیں ہے

18- خطیب کے دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھانا لیکن جب امام بارش کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کی اقتداء کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں

19- جس شخص کا دوسری رکعت كا رکوع بھی چھوٹ گیا ہو اس کا دو رکعتیں مکمل کرنا ایسے شخص کو ظہر کی چار رکعت پڑھنی چاہیے کیونکہ دوسری رکعت کا رکوع چھوٹ جانے سے جمعہ فوت ہوگیا

20- نماز ختم ہوتے هی ذکر و اذکار اور سنن و نوافل سب چھوڑ کر مسجد سے جلدی نکلنے کی کوشش کرنا اور دروازے پر بھیڑ لگانا

21- مسافر کا جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع کرنا اس سے علماء نے منع کیا ہے لیکن اگر مسافر نے جمعہ نہیں بلکہ ظہر کی نماز پڑھی ہے تو عصر کو ملانے میں کوئی حرج نہیں

22- بغیر کسی شرعی عذر جیسے بیماری یا سفر کے جمعہ کو چھوڑ دینا جبکہ جمعہ هر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے

23- سورۃ الکھف کی تلاوت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف کا اہتمام نہ کرنا 

24- خطبے کا تذكیر اور نصیحت سے خالی ہونا بعض خطیب اپنے خطبوں میں سیاسی باتیں شامل کرلیتے ہیں اور امت کو وعظ و نصیحت سے محروم رکھتے ہیں

25- امام کا خطبہ کو طویل اور نماز کو مختصر کرنا حالانكه اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کو مختصر اور نماز کو طویل کرنے کا حکم دیا ہے

26- دوران خطبہ قصے کہانیاں یا ضعیف روایات کا بیان کرنا اسے بدعت و خرافات اور غلط باتیں لوگوں کے درمیان پھیلنے کا اندیشہ ہے

27- نبی کا نام آنے پر لوگوں کا بلند آواز سے درود شریف کا ورد کرنا یا امام کے ذریعے سوال کرنا اور مقتدیوں کا اس پر

جواب دینا ان سب سے خطبہ کے اجر و ثواب میں کمی ہوجاتی ہے

28- خطیب کا سنتوں کی پابندی نہ کرنا مثلا خطیب لوگوں کو اتباع سنت کی دعوت دی اور خود بغیر داڑھی کے ہو سگریٹ نوشی کرتا ہوں کپڑے ٹخنوں سے نیچے پہنتا ہوں تو لوگوں سے کیسے اتباع سنت کی امید کرتا ہے جبکہ وہ خود متبرک سنت نہیں ہے

29- دوران خطبہ سونا یا کهمبوں پر ٹیک لگا کر بیٹھنا اور خطیب کی باتوں پر بے توجہی کرنا ہے اگر نیند آئے تو جگہ بدل لینی چاہیے

30- دوران خطبہ مسواک کرنا بعض اوقات مسواک کے اجزاء فرش مسجد پر گزر سکتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ مسواک کرتے ہوئےخطبه سننا انهماك کو کم کر دیتا ہے۔ 

             اللہ تعالی ہم سب کو ایمان و احتساب اور پورے حقوق و آداب اور اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے اس کا پورا پورا اجر عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے