آج کی تاریخ

???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ٨ ذی الحجہ١٤٤٠ھ

????10 اگست 2019

???? بروز۔ *سنیچر* 

????کتاب الذبائح والأضحیة????
???? *حدیث النبیﷺ*
????..صحیح مسلم٥٠٩٩
ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا لَا نَأْکُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًی فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کُلُوا وَتَزَوَّدُوا
ترجمہ:ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، ابن جریج، عطاء، جابر، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ منیٰ کے مقام پر ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ نہیں کھاتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اجازت عطاء فرما دی اور ارشاد فرمایا تم کھاؤ اور زادراہ بناؤ اور جمع کرو۔.أوکماقال النبی ﷺ۔
????????????????????????????????????????????????
????کتاب الأضحیة ????
???? *آج کامسئلہ* ????
???? *۔ذبح کرتےوقت اردومیں اللہ کانام لینا۔۔* ؟????
???? ۔ذبح شرعی میں ہر جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے، خواہ وہ قربانی کا جانور ہو یا عام جانور، اس کے بغیر ذبح شرعی متحقق نہ ہوگا اور جانور حلال نہ ہوگا، اور مستحب یہ ہے کہ بسم اللہ أللہ أکبر کہہ کر ذبح کرے؛لیکن اگرکوئی اردویادوسری زبان میں اللہ کانام لیکرذبح کرےتب بھی درست ہےخاص عربی زبان میں اللہ کانام لیناضروری نہیں ہے(مثلاًمیں خداکےنام پرذبح کرتاہوں)۔۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:کتاب المسائل
???? *۔۔لا تحل ذبیحة ……تارک تسمیة عمداً……فإن ترکھا ناسیاً حل ………والشرط فی التسمیة ھو الذکر الخالص عن شوب الدعاء وغیرہ……والمستحب أن یقول: بسم اللہ أللہ أکبر الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الذبائح، ۹: ۴۳۱-۴۳۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ویجري ذلک المذکور في کل ما یتعلق بنطق کتسمیة علی ذبیحة الخ (المصدر السابق، ۲: ۲۵۳)، قولہ: ”ویجري ذلک المذکور“:یعنی: کون أدنی ما یتحقق بہ الکلام إسماع نفسہ أو من بقربہ (رد المحتار)۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار

HIDAYATULLAH

KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے