بسم الله الرحمن الرحيم
قربانی
فضیلت و اہمیت ، آداب و احکام
از : ظفر احمد خان ندوی، چھبرا، ڈاکخانہ: دھرم سنگھوا بازار، سنت کبیر نگر یو پی 272154
9421590170
الحمد لله رب العالمين، والعاقبة للمتقين، والصلاة والسلام على عبده ورسوله وأمينه على وحيه وخليله وصفوته من عباده نبينا وإمامنا وسيدنا محمد بن عبدالله، وعلى آله وأصحابه، ومن سلك سبيله، واهتدى بهداه إلى يوم الدين. أما بعد: أما بعد، فاعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم، قال الله تعالى، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِالْمُخْبِتِينَ(الحج: 34)، وقال: اِنَّـآ اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ،فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ،
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَـرُ(الكوثر)، صدق الله العظيم. وعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، "مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَشْعَارِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا”(ابن ماجه والترمذي).
اسلام کے دو تہواروں میں سے ایک عیدالاضحیٰ حرمت والے مہینے ذی الحجہ کے پہلے مبارک و مقدس عشرہ کے آخری دن یعنی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے جس میں قربانی جیسا عظیم عاشقانہ والہانہ اور بے حد فضیلت والا عمل انجام دیا جاتا ہے، یہ قربانی کیا ہے؟
●قربانی کیا ہے؟●
عید الاضحی کی نماز کے بعد پہلے دن یا قربانی کے دیگر ایام میں مقررہ جانوروں میں سے کسی کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں یہ اس اولوالعزم پیغمبر کی یادگار ہے جس نے ہزاروں سال قبل فرمابرداری اور جذبہ ایثار و قربانی کی ایسی مثال پیش کی جو اللہ کو اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے یادگار بنا دیا چنانچہ ہر سال ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو نماز عید کی ادائیگی کے بعد ہر صاحب استطاعت مسلمان اسی عظیم پیغمبر کی عظیم سنت کو نبھاتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے اپنے مالک کو راضی کرنے کی کوشش تو کرتا ہی ہے ساتھ ہی دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک مسلمان اور بندے مومن اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے دنیا کی ہر بڑی سے بڑی نعمت بھی قربان کر سکتا ہے۔
●قربانی کی ابتدا●
قربانی کا آغاز ابتدائے آفرینش سے ہی ہوگیا تھا جب آدم علیہ السلام کے دو بیٹیوں نے اپنے ایک مسئلے کو لیکر اللہ کےلئے اپنی قربانیاں پیش کیں جس کا واقعہ یوں ہے، چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی ، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے ، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا ، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کر لے ، حضرت آدم اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو ، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی ، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی ، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی ، اس نے اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی اپنے بھائی سے کہنے لگا میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔ بھائی نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ تو متقی لوگوں کی قربانی قبول فرماتا ہے ،تم میں تقویٰ نہیں ہے۔ اس لئے تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی اس میں میرا کیا قصور ہے۔بالآخر اس نے اپنے بھائی کو قتل کیا، پھر اپنے اس فعل پر بہت نادم ہوا اور افسوس کیا (المائدہ:27)۔ قاتل کا نام قابیل تھا مقتول کا نام ہابیل تھا۔قابیل پہلا شخص ہےجس نے بنی آدم میں قتل کو جار ی کیا۔ (بخاری)۔ آدم علیہ السلام اس قتل پر بہت روئے اور افسوس کیا۔
اِس واقعہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہرملت میں رہی، البتہ اس کو خاص شان و شوکت رفعت و عظمت اور بلندی و پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے حاصل ہوئی، جس کی تفصیل سورہ الصافات میں مذکور ہے۔
●ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ●
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں۔ یہ صرف ایک خواب نہیں بلکہ آزمائش تھی کیونکہ نبیوں کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تم کیا کہتے ہو؟ فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا : ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ (سورۂ الصٰفٰت:102)بیٹے کے اس جواب کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے جب مکہ مکرمہ سے لے کر چلے تو شیطان نے منیٰ میں تین جگہوں پر انہیں بہکانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے سات سات کنکریاں اس کو ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا ۔ آخرکار خوشنودی رب کی خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمین پر لٹادیا، چھری تیز کی، آنکھو ں پر پٹی باندھی اور اُس وقت تک چھری اپنے بیٹے کے گلے پر چلاتے رہے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا آگئی۔ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ الصٰفٰت104۔105) چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔ (سورۂ الصٰفٰت 107) اس واقعہ کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت میں شمار ہوگیا۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے بھی ہر سال قربانی نہ صرف مشروع کی گئی، بلکہ اس کو اسلامی شعار بنایا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر جانوروں کی قربانی کا یہ سلسلہ کل قیامت تک جاری رہے گاان شاء اللہ ۔
●ہر امت میں قربانی ●
اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ(الحج:34)
"اور ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کر دیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے انکو دئیے ہیں (انکے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں سو تمہارا ایک ہی معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو” ۔ یعنی قربانی ہر امت پر فرض قرار دی گئی اللہ کا فرمان ہے کہ کل امتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا ۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے ۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔ حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔ مسند احمد میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔ پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا ہربال کے بدلے ایک نیکی۔ دریافت کیا اور "اون” کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔ اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔ تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں ، کسی رسول کو کسی نیک امت کو اختلاف نہیں ہوا ۔ سب اللہ کی توحید ، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی ۔ پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ ، اس کے ہوکر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں ، جو متواضع ہیں ، جو تقوے والے ہیں ، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنادیں ، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔ جو ذکر الٰہی سنتے ہیں دل نرم ، اور خوف الٰہی سے پر کرکے رب کی طرف جھک جاتے ہیں ، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں(تفسیر ابن کثیر)۔
●قربانی شعائر اللہ میں سے ہے●
شعائر اللہ کیا ہیں؟
شعائر ان خاص عبادات و احکام کا نام ہے جو دین کی علامات سمجھی جاتی ہیں، قربانی انہیں میں سے ایک ہے ایسے احکام کی پابندی زیادہ اہم ہے(معارف القرآن6/267)۔
شاہ ولی اللہم محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں ’’ شعائر الہیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری ومحسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لیے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت وحرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت وحرمت سمجھتے ہیں۔ اور ان کے متعلق کسی قسم کی کوتاہی کو ذات الٰہی کے متعلق کوتاہی سمجھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھا :۔ بڑے بڑے شعار الٰہیہ چار ہیں! قرآن حکیم۔ کعبۃ اللہ۔ نبی کریم ﷺ۔ نماز۔ قرآن حکیم میں ہے:۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ (2:158) بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اور والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ (22:36) اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں۔ کعبہ، عرفہ، مزدلفہ جمار ثلاثہ، صفا، مروہ، منیٰ، جمیع مساجد، ماہ رمضان، اشہر حرم، عید الفطر، عید النحر ایام تشریق۔ جمعہ، اذان، اقامت، نماز ،جماعت، نماز عیدین۔ سب کو شعائر اللہ میں سے گردانتے ہیں۔اور شاہ صاحب نے قرآن، کعبہ، نبی اور نماز کو بڑے شعائر اللہ میں شمار کیا ہے۔ (رحمة الله الواسعة جلد أول ص704).
قرآن میں چار مقامات پر شعائر اللہ کا ذکر ہے، (1): إن الصفا والمروة من شعائر الله”بے شک صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں”(البقرة:158).(2):يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ(المائدة:2) ”مؤمنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بے حرمتی نہ کرنا۔” (3): ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ”اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جوخدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو (فعل) دلوں کی پرہیز گاری میں سے ہے۔” (4): وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۔ الایۃ ”اور قربانی کےاونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لیے شعائر خدا مقرر کیا ہے ان میں تمہارے لیے فائدے ہیں۔”
اسلام کے ابتدائی زمانے میں صحابہ سعی بین الصفا و المروہ سے کراہت محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شعائر جاہلیت میں سے ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مطلع کیا کہ صفا اور مروہ جاہلیت کے نہیں بلکہ اللہ کے شعائر میں شامل ہیں ، سورۃ المائدہ میں مختلف شعائراللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا، سورۃ الحج میں پہلے شعائراللہ کی تعظیم کا حکم دیا اور اس کو تقوی کی نشانی قرار دیا ، اور پھر سورۃ الحج ہی میں خاص اونٹ” بدن” کی قربانی کو بھی شعائر اللہ کہا ہے، کہ اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے شعائرِ الہٰی میں سے ٹھیرایا ہے ۔ تمھارے لیے ان میں بڑے خیر ہیں، اونٹ عربوں کا محبوب اور سب سے بڑھ کر کام آنے والا جانور تھا ۔ یہود اس کی حرمت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اس لیے ہدی کے اونٹوں کے شعائر اللہ میں سے ہونے کا بطور خاص تذکرہ فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ان کے خون اور گوشت کا اللہ کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ جذبہ عبودیت اور خدا ترسی کے ساتھ ان کی قربانی ہی اللہ کو مطلوب ہے ۔
● قربانی کے فضائل●
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : ” مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ ، قَالُوا : وَلَا الْجِهَادُ ، قَالَ : وَلَا الْجِهَادُ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ ” .(صحيح البخاري)
ترجمہ: حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذی الحجہ (یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! کیا یہ جہاد فی سبیل ﷲ سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل ﷲ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاںجس شخص نے اللہ کی راہ میں نکل کر اپنی جان اور اپنے مال کو ہلاکت اور خطرے کی جگہ ڈال دیا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا (سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا) بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا ” .(جامع الترمذي)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ ، قَالَ : ” سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ” ، قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ” بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ ” ، قَالُوا : فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ” بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ "(سنن ابن ماجه).
ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ نے بیان فرمایا کہ صحابہؓ نے سوال کیا یا رسول اﷺ ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے ۔ صحابہؓ نے کہا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرامؓ نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ ﷺ !اون (کے بدلے میں کیا ملے گا؟)فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی.
عن علی رضی اللہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یا فاطمة! قومی فاشہدی ضحیتک، فإن لک بأول قطرة تقطر من دمہا مغفرة لکل ذنب، ما انہ یجاء بلحمہا ودمہا توضع فی میزانک سبعین ضعفا۔ قال ابو سعید: یا رسول اللّٰہ! ہذا لآل محمد خاصة، فانہم اہل لما خصوا بہ من الخیر، و للمسلمین عامة؟ قال: لآل محمد خاصة، وللمسلمین عامة“۔(الترغیب والترھیب)
ترجمہ:۔”حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس (ذبح کے وقت) موجود رہو؛ اِس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، یہ قربانی کا جانور قیامت کے دِن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور تمہارے ترازو میں ستر گنا (زیادہ) کرکے رَکھا جائے گا، حضرت ابوسعید نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فضیلت خاندانِ نبوت کے ساتھ خاص ہے جو کسی بھی خیر کے ساتھ مخصوص ہونے کے حق دار ہیں یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟ فرمایا: یہ فضیلت آلِ محمد کے لیے خصوصاً اور عموماً تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے“۔
عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یا أیہا الناس! ضحوا واحتسبوا بدمائہا، فان الدم وإن وقع فی الأرض، فإنہ یقع فی حرز اللّٰہ عز وجل۔“(الترغیب والترہیب)
ترجمہ:۔”حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر اجر وثواب کی اُمید رَکھو؛ اِس لیے کہ (اُن کا) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے؛ لیکن وہ اللہ کے حفظ وامان میں چلاجاتاہے“۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم مَا اُنْفِقَتِ الْوَرَقُ فِیْ شَئْیٍ اَفْضَلُ مِنْ نَحِیْرَۃٍ فِیْ یَوْ مِ الْعِیْدِ‘‘
(سنن الدارقطنی، سنن الکبریٰ للبیہقی)
تر جمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:کسی خرچ کی فضیلت اللہ تعا لیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن قربانی پر کیا جا ئے ہرگز نہیں۔
●قربانی کا مقصد●
قربانی جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کا نام نہیں ہے ، یہ ایثار وجاں نثاری ، تقوی وطہارت ،مومنانہ صورت وسیرت اور مجاہدانہ کردار کا حامل ہے ،اس لئے قربانی کرنے والوں کو اپنی نیت خالص اور قربانی لوجہ اللہ کرنی چاہئے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ(سورہ الانعام:162)۔ ترجمہ:بلاشبہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اسی ایک اللہ کے لیے ہے جو کل جہانوں کا پروردگار ہے ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے، لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ(الحج :37)۔ ترجمہ: اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور شیطانی قوتوں کو خائب وخاسر بنانا ہے اور قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنَّ اللَّهَ لا ينظرُ إلى أجسادِكُم ، ولا إلى صورِكُم ، ولَكِن ينظرُ إلى قلوبِكُم(صحیح مسلم)۔ ترجمہ: بے شک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ۔
لہذا قربانی کا مقصد جذبۂ ایثار کو بیدار کرنا اور اپنی عزیزسے عزیزترچیز کوحکم ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول میں قربان کرنے کا حوصلہ پیداکرنا ہی قربانی کا مقصد ہے۔ اس سے ہم کو یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اپنی مقصد ِزندگی کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر رب کائنات کی مرضیات کو ترجیح دیں۔
آجکل ہم میں سے بہت سارے لوگ ذاتی نمود ونمائش کے لیے قربانی میں غلو کرنے لگے، اپنی دولت کا رعب جمانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں اخلاص وتقوی سے اپنا دامن خالی کر کے ریاکاری کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ بہت فخریہ انداز میں جانوروں کی قیمتیں بتاکر لطف لیتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم نے اعلیٰ سے اعلیٰ نسل کے اتنے جانور ذبح کیے۔ وہ یہ بھول چکے ہیں کہ قربانی کی قبولیت کا انحصار ریاکاری پر نہیں بلکہ خالصیت پر ہوتا ہے اور جہاں اخلاص نہ ہو وہاں قبولیت بھی نہیں ہوتی۔
●قربانی کا وجوب●
جمہور عُلماء ، اِمام مالک اور اِمام الشافعی کا کہنا ہے کہ قُربانی کرنا سُنّت ہے فرض نہیں ،جبکہ اِمام ربیعہ، اِمام الاوزاعی ، اِمام ابو حنیفہ ، اِمام النخعي اور اِمام اللیث کا کہنا ہے کہ جِس کے پاس مالی گُنجائش ہو اُس کے لیے قُربانی کرنا فرض ہے ، اور یہ دوسری بات زیادہ درست ہے ،
اللہ تعالی کا ارشاد ہے، "فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَر” نما زپڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے (سورۃ الکوثر) فَصَلِّ لِرَبِّکَ ‘‘سے جس طرح نماز عید کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح ’’وَانْحَرْ ‘‘ سے قربانی کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَارَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔ ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کردی تاکہ اللہ نے جو چوپائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیا کریں۔(سورۃ الحج)۔
عبد اللہ بن عمرؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ آپ نے جواب دیا: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَالْمُسْلِمُوْنَ کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی دی اور مسلمان بھی قربانی دیا کرتے تھے(ترمذی)۔
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : كُنَّا وَقُوفًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً ، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ ؟ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ”(سنن ابن ماجه)۔
ترجمہ: جمہ :ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:اے لوگو ! ہرگھروالوں پر ہر سال قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔
اس حدیث سے قربانی کے وجوب کا ثبوت معلوم ہوتا ہے ۔ فا ئدہ: ’’عتیرہ ‘‘اس قربانی کو کہا جاتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں بتوں کے نام پر ہوتی تھی پھراسلام آنے کے بعد اللہ تعالی کے نام پر ہونے لگی، لیکن بعد میں اسے منسوخ فرمادیاگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت و قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا”۔(سنن ابن ماجه)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص استطاعت قدرت کے باوجود بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔‘‘
حضرت جندب بن سفیا ن البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں:
’’شَھِدْتُّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ و سلم یَوْ مَ النَّحْرِ فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلوٰۃِ فَلْیُعِدْ مَکَانَھَا اُخْریٰ وَمَنْ لَّمْ یَذْ بَحْ فَلْیَذْبَحْ‘‘(صحیح البخاری)
تر جمہ: میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عید الاضحی کےدن حاضر ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے ) ذبح نہیں کیا تو اسے چا ہئے کہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کر ے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید سے پہلے قربانی کرنے والوں کو دوبارہ قربانی کا حکم دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی واجب ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” ضَحُّوا وَطَيِّبُوا بِهَا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُسْلِمٍ يُوَجِّهُ ضَحِيَّتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ إِلا كَانَ دَمُهَا وَفَرْثُهَا وَصُوفُهَا حَسَنَاتٍ مَحْضَرَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "(مصنف عبدالرزاق)۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کیا کرو اور اس کے ذریعے سے اپنے نفسوں کو پاک کیا کرو کیونکہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رخ (ذبح کرنے کے لی قبلہ کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون گوبر اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی صورت میں حاضر کیے جائیں گے۔
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا فرامین و ارشادات وجوب قربانی کے واضح ثبوت ہیں،
جو لوگ عید کے دن قربانی کو مسنون کہتے ہیں واجب ہونے کے قائل نہیں ہیں ان کے دلائل:
عَنِ البَرَاءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ،(بخاری و مسلم)۔ بلاشبہ ہم اپنے اس (عیدالاضحیٰ) کے دن میں سب سے پہلے جس عمل سے آغاز کریں گے اور نماز پڑھنا ہے، پھر ہم واپس آکر (گھروں میں) پلٹیں گے اور قربانی ذبح کریں گے، جس نے یہ عمل (نماز عید کے بعد قربانی) کیا بالتحقیق اس نے ہماری سنت اختیار کی اور جس نے (نماز عید سے) قبل جانور ذبح کیا یہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو جلد پیش کیا ہے اس کی کوئی قربانی نہیں ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ المُسْلِمِينَ.(بخاری)۔جس نے نماز سے قبل (قربانی) ذبح کی اس نے محض اپنی خاطر (جانور) ذبح کیا اور جس نے نماز (عید) کے بعد جانور ذبح کیا تو یقینا اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کے سنت پالی۔
ان احادیث میں "فقد اصاب سنتنا” اور "اصاب سنة المسلمین” کے الفاظ دلیل ہے کہ قربانی سنت موکدہ ہے واجب نہیں(قربانی اور عقیقہ کے مسائل،محمد فاروق،ص28،29،ترجمان الحدیث پبلیکیشنز)۔
عن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ(رواه مسلم).جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال (کاٹنے) اور ناخنوں کو ترشوانے سے باز رہے۔
مفہوم الحدیث:
(1) سیدسابق: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ "اراد ان یضحی” جس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، دلیل ہیں کہ قربانی سنت ہے واجب نہیں۔ (2) شوکانی: قربانی کو ارادے سے معلق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب نہیں (نیل الاوطار)۔(3) ابن قدامہ: قربانی کے حکم کو ارادے سے معلق کیا گیا ہے جبکہ واجب کو ارادہ سے معلق نہیں کیا جاتا لہذا قربانی سنت ہے (المغنی)۔(حوالہ سابق: ص29)۔
عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : ” أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَالا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا(السنن الکبری للبیہقی)میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ اس بات کی ناگواری کی وجہ سے قربانی نہیں کرتے تھے کہ (اس مسئلے میں) ان کی اقتدا نہ کی جائے ۔ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا قربانی نہ کرنا قربانی کے مسنون ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اگر قربانی فرض ہوتی تو شیخین کبھی بھی اس عمل کو ترک نہ کرتے اور لوگوں میں اس کے عدم ب کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔(حوالہ سابق:ص30)۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر وجوب کی دلیل موجود ہو تو بندے کے ارادے کے ساتھ کسی چیز کو منسلک کرنے سے عدم وجوب کشید نہیں ہوتا، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا میقات کے حوالے سے فرمان ہے: (یہ ان کیلیے جو ان مقامات پر باہر سے آئے اور وہ حج اور عمرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو) تو یہاں پر ارادہ بولنے کے باوجود بھی حج اور عمرہ کے وجوب کو ختم نہیں کیا گیا؛ کیونکہ ایک اور دلیل حج اور عمرے کے وجوب کی موجود ہے۔۔۔ تو عید کی قربانی جس کے پاس استطاعت نہیں ہے اس پر واجب نہیں ہے وہ قربانی کا ارادہ بھی نہیں رکھتا، اس لحاظ سے قربانی کے حکم کے متعلق لوگوں کو استطاعت اور عدم استطاعت کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کرنا صحیح ہے، قربانی کا ارادہ رکھنے والے اور نہ رکھنے والے”۔ تو حاصل کلام یہ ہوا کہ عید کی قربانی فرض قرار دینے والی احادیث پر اہل علم کا کلام موجود ہے، اگرچہ کچھ اہل علم نے انہیں حسن قرار دیا ہے۔
اور اسی طرح جن احادیث میں قربانی کو مستحب قرار دیا گیا ہے ان پر بھی کلام ہے، بلکہ ان کی اسانید شدید نوعیت کی ضعیف ہیں۔ اور دو طرفہ دلائل ایسے ہیں کہ قوت میں قریب قریب محسوس ہوتے ہیں، تو احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ استطاعت کے ہوتے ہوئے قربانی ترک نہیں کرنی چاہیے؛ کیونکہ قربانی سے عظمت الہی کا اظہار ہوتا ہے اور یقینی طور پر انسان اس سے عہدہ برآ ہو جاتا ہے۔” (أحكام الأضحية والذكاة”)
قربانی کو واجب یا سنتِ موٴکدہ قرار دینے میں زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے؛ مگر پوری امتِ مسلمہ متفق ہے کہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے اور جو شخص قربانی کرسکتا ہے اس کو قربانی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے خواہ اس کو واجب کہیں یا سنتِ موٴکدہ یا اسلامی شعار۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے باوجودیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے گھر میں اشیاء خوردنی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی مہینے تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کو واجب قرار دیا ہے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد ابن حنبل کی ایک روایت بھی قربانی کے وجوب کی ہے۔ ہندوپاک کے جمہور علماء نے بھی وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے؛ کیونکہ یہی قول احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ نے بھی قربانی کے وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے۔
●قربانی کا نصاب●
قربانی کے بارے میں احادیث میں صراحت ہے کہ یہ گنجائش والے (مالدار اور صاحب استطاعت) پر واجب ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ” .(سنن ابن ماجه)۔ ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص استطاعت(مالداری) کے باوجود بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔‘‘ اس حدیث میں قربانی نہ کرنے پر وعید آئی ہے اور وعید واجب چھوڑنے پر ہوا کرتی ہے. یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی ہر "صاحب وسعت” پر واجب ہے، جسے صاحب نصاب بھی کہا جاتا ہے. یعنی اگر گھر میں ایک ہی کو وسعت ہے تو ایک ہی (ہر گھر کا) کرے اور اگر سب صاحب_وسعت ہیں تو سب پر لازم ہے، اور اگر کوئی بھی صاحب وسعت نہیں تو کسی پر بھی لازم نہیں۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں "قربانی ایسے مسلمان شخص پر واجب ہے جس کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کے علاوہ کوئی بھی سامان یانقد رقم اتنی موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے ضرورت سے زیادہ کپڑے برتن وغیرہ بھی اگر اتنی قیمت کے ہوں تو قربانی ہوجائے گی
اگر کسی شخص کے ذمہ قرض ہو لیکن بنیادی ضروریات اشیا رہائشی مکان استعمالی سواری اور استعمالی کپڑوں کے علاوہ جو کچھ اس کی املاک ہوں وہ اتنی ہوں كه اگر بیچ دی جائیں تو قرض ادا کرنے کے بعد بھی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدراس کے پاس بچ رہے تو ایسے شخص پر قربانی كرنا واجب ہے اور جیسے دوسرے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرض لینا درست ہے ایسے ہی اس مقصد کے لئے بھی قرض لینا جائز ہے”(كتاب الفتاوی:4 ص132)۔
●قربانی کے وجوب کی شرائط●
قربانی مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم، صاحب نصاب (مالدار) پر واجب ہے۔ مسلمان ہونا شرط ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم ذی الحجہ کی دس، گیارہ یا بارہ تاریخ کو (غروب آفتاب سے پہلے) مسلمان ہو جائے اور مالدار ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔
عاقل سے مراد سمجھدار ہے، اگر کوئی پاگل، یا ایسا ناسمجھ ہو کہ اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں کرسکتا تو اس پر قربانی واجب نہیں۔ اسی طرح نابالغ بچوں پر بھی قربانی واجب نہیں ہے، چاہے یہ دونوں (مجنون اور بچہ) مالدار ہی کیوں نہ ہوں۔ قربانی کے لئے آدمی کا مقیم ہونا بھی ضروری ہے، اگر کوئی مسافر ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں (شرعی مسافر اس کو کہتے ہیں، جو اپنے مقام سکونت سے اسی (۸۰) کیلو میٹر سے آگے سفر کرے اور وہاں پر اس شخص کی پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہو) اگر مسافر ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کو عصر سے پہلے اپنے وطن کو واپس آجائے تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی۔
صاحب نصاب کی وضاحت
صاحب نصاب کے متعلق قربانی اور زکوۃ کے مسئلہ میں تھوڑا سا فرق ہے، زکوۃ کے لئے صاحب نصاب کے پاس مال نصاب پر ایک سال کا گزرنا ضروری ہے، مگر قربانی میں ایسا نہیں ہے، بلکہ قربانی کی مقررہ تاریخوں (یعنی۱۰،۱۱،۱۲؍ ذی الحجہ) میں کبھی بھی اس کے پاس پیسہ آجائے تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس اپنی حاجت اصلیہ کے علاوہ سامان یا پیسہ ہو تو قربانی واجب ہے۔
● قربانی کے اوقات و ایام●
قربانی کا وقت اور اس کے ایام :
قربانی کا وقت عید کی نماز کے فورابعد شروع ہوجاتا ہے ،خطبہ ختم ہونا ضروری نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے امام صاحب ہی قربانی دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من صلى صلاتنا، ونسك نسكنا، فقد أصاب النُّسُكَ، ومن نسكَ قبلَ الصلاةِ، فإنه قبلَ الصلاةِ ولا نُسُكَ له.(صحيح البخاری)
ترجمہ: جس شخص نے ہماری نماز کی سی نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔
ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا "جس نے نماز سے قبل (قربانی) ذبح کی اس نے محض اپنی خاطر (جانور) ذبح کیا اور جس نے نماز (عید) کے بعد جانور ذبح کیا تو یقینا اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کے سنت پالی”۔(بخاری)۔
یہ احادیث بتلاتی ہیں کہ عید کی نماز سے پہلے قربانی صحیح نہیں ہے جبکہ عید کی نماز کے بعد قربانی کرنا صحیح ہے ۔ عید کی نماز کے بعد سے قربانی کا وقت شروع ہوکر بارہ ذوالحجہ کے مغرب کا سورج ڈوبنے پر ختم ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قربانی تیرہ ذی الحجہ تک کی جا سکتی ہے اور دلیل کے طور یہ حدیث پیش کرتے ہیں،
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ "أيام التشريق كلها ذبح”۔(السنن الکبری للبیہقی)
ابو ہریرہ اللّٰہ رضي الله عنه نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: تشریق کے سارے دن ذبح کے دن ہیں۔”
بر صغیر ہند و پاک کے مشہور محقق حافظ زبیر علی زئی اس حدیث کی صحت سے متعلق ایک سائل کے سوال کے جواب میں پر اپنی مدلل تحقیق کے بعد لکھتے ہیں، روایت مسئولہ کے ضعیف ہونے کے بعد آثار صحابہ کی تحقیق درج ذیل ہے:
1- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’الاضحی یومان بعد یوم الاضحی‘‘ قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔ (موطا امام مالک، السنن الکبریٰ للبیہقی)
2- سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’النحر یومان بعد یوم النحرو افضلها یوم النحر‘‘ قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔ (احکام القرآن للطحاوی)
3- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’الاضحی یومان بعدہ‘‘ قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہوتی ہے۔ (احکام القرآن للطحاوی)
4- سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’النحر ثلاثة ایام‘‘قربانی کے تین دن ہیں۔ (احکام القرآن للطحاوى)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں تیند ن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ یہ ممانعت اس کی دلیل ہے کہ قربانی تین دن ہے والا قول ہی راجح ہے۔ اس ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے اور آثار میں اتخلاف ہے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن (عیدالاضحیٰ اور دو دن بعد) ہیں،ہماری تحقیق میں یہی راجح ہے اور امام مالک وغیرہ نے بھی اسے ہی ترجیح دی ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
ایام تشریق میں ذبح والی روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح یا حسن قرار دینا غلط ہے۔(قربانی کے مسائل، حافظ زبیر علی زئی، ص25، 26، 27)۔
بہرحال قربانی وقت مقررہ کے اندر دن یا رات میں کسی بھی وقت قربانی ذبح کی جاسکتی ہے ، البتہ دن کے وقت ذبح کرنا اولی اوربہتر ہے ، اورعید والے دن نماز عید کے خطبہ کے بعد ذبح کرنا افضل اوراولی ہے ، اوراسی طرح اس کے بعدوالے دن میں یعنی جتنی جلدی ذبح کی جائے بہتراور افضل ہوگي ، کیونکہ اس میں خیروبھلائي کرنے میں سبقت ہے ۔
●قربانی کے جانور ●
قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے، یہ عبادت چند ایام کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرے دنوں میں قربانی کی عبادت انجام نہیں دی جا سکتی ہے، اسلام کی دوسری عبادات کی طرح اس کی انجام دہی اور طریقہ کار کی مکمل تفصیلات قرآن و حدیث میں موجود ہیں، لہذا اس عبادت کے لئے ہر حلال جانور کی قربانی نہیں دی جا سکتی، بلکہ شریعت نے جو جانور متعین کئے ہیں انہیں کی قربانی ہو سکتی ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے،
وَيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ فِيٓ أَيَّامٖ مَّعۡلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۖ(الحج:34)۔اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں۔ آیت میں بھیمۃ الانعام کا معنی :
بھیمۃ اس جاندار کو کہتے ہیں جو بےعقل ہو اور عرف میں یہ سمندر اور خشکی کے چار پاؤں والے جانوروں کے ساتھ خاص ہے اور انعام اونٹ ‘ گائے اور بکریوں کو کہتے ہیں اور جو جانور ان کے ساتھ ملحق ہیں ‘ جیسے بھینس ‘ بھیڑ ‘ اور ہرن وغیرہ۔
قرآن مجید میں ہے :
” اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھاومنھا تاکلون “ (المؤمن : ٧٩)۔ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ‘ تاکہ تم ان میں سے بعض کو کھاؤ۔
(آیت) ” ومن الانعام حمولۃ وفرشا کلوا مما رزقکم اللہ، ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعزاثنین، ومن الابل اثنین ومن البقراثنین، (الانعام : ١٤٤، ١٤٢ )
ترجمہ : اور بعض (قد آور) چوپائے (پیداکیے) بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین سے لگے ہوئے کھاؤ اس رزق سے جو اللہ نے تمہیں دیا۔ آٹھ جوڑے پیدا کیے ‘ بھیڑ سے دو (نر و مادہ) اور بکری سے دو (نرومادہ) اور اونٹ سے دو پیدا کیے اور گائے سے دو پیدا کیے۔
ان آیتوں میں آٹھ چوپایوں ‘ بھیڑ بکری ‘ اونٹ اور گائے کے جوڑوں پر انعام کا اطلاق فرمایا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے المائدہ کی تیسری آیت میں جن چوپایوں کا استثناء فرمایا ہے ‘ ان کے علاوہ باقی تمام جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کو کھانا اور ان سے بار برداری وغیرہ کے دیگر منافع حاصل کرنا جائز ہیں(تبیان القرآن، المائدہ،آیت:1)۔
دوسری جگہ ارشاد ہے، وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ(الزمر:6)۔ اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے، وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ حَمُولَةٗ وَفَرۡشٗاۚ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ، ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۖ مِّنَ ٱلضَّأۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡمَعۡزِ ٱثۡنَيۡنِۗ
اور اللہ تعالی نے مویشیوں میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے نقش پر مت چلو، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے۔ (یہ چھوٹے بڑے چار پائے اللہ نے پیدا کیے) آٹھ نر و ماده یعنی بھیڑ میں دو قسم اور بکری میں دو قسم،(یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ)۔(الانعام:142،143)۔
حُمُولَةً (بوجھ اٹھانے والے) سے مراد، اونٹ، بیل، گدھا، خچر وغیرہ ہیں، جو باربرداری کے کام میں آتے ہیں اورفَرْشًا سے مراد زمین سے لگے ہوئے جانور۔ جیسے بکری وغیرہ جس کا تم دودھ پیتے یا گوشت کھاتے ہو۔ اس سے آگے والی آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ(الانعام:144)۔ اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم(یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ)۔
حضرت ابو جمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کی قربانی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے اس کو کرنے کا حکم فرمایا اور میں نے قربانی کے جانور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹ ہے یا گائے ہے یا بکری ہے یا قربانی کے (بڑے) جانور میں شرکت ہے(بخاری كتاب الحج)
یعنی انهیں جانوروں کی قربانی جائز ہے اور اس روایت میں بھیڑ کا ذکر نہیں ہے (جیسا کہ مذکورہ آیتوں میں گزرا) اس لیے کہ وہ بکری میں داخل ہے ان آٹھ قسم کے جانوروں میں بھینس نر یا مادہ شامل نہیں ہے لیکن اہل لغت اور ماہرین حیوانات کے تجربات کی روشنی میں فقہاء نے بھینس کو گائے کی ایك قسم شمار کرتے ہوئے اس کی قربانی کی اجازت دی ہے لہذا یہ جائز ہے، قُربانی کے لیے سب سے بہترین جانور مینڈھا ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر جانوروں میں سے مینڈھے اختیار کیئے اور قُربان فرمائے ، انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ”وَذَبَحَ رَسولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّمَ بِالمَدِینَۃکَبشَینِ اَملَحَینِ” اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں عید الاضحی والے دِن دو املح مینڈھے ذبح فرمائے(صحیح البخاری)،
اور صحیح مُسلم میں حج کے موقع پر مِنیٰ میں اِسی طرح دو املح مینڈھے قُربان کرنے کا ذِکر ہے ،
انس ابن مالک رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ”کان یُضَحِّی بِکَبشَینِ اَملَحَینِ اَقرَنَینِ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو املح اور سینگوں والے مینڈھے قُربان کیا کرتے تھے(صحیح البخاری)،
پس واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قُربانی کے لیے املح اور سینگوں والے مینڈھے پسند فرماتے تھے ، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند سے بہتر اور افضل کوئی پسند نہیں ہو سکتی ۔
املح مینڈھے سے مُراد وہ مینڈھا ہے جو سُفید و سیاہ رنگ کا ہو ، اور اِس طرح کہ پاؤں اور آنکھوں کے آس پاس اور پیٹ کے نچلے حصے میں سیاہی ہو اور باقی ساری جلد کی رنگت سُفید ہو،
ان پوری تفصیلات کا خلاصہ یہ ہوا کیا عید الاضحی کی قربانی اور عقیقہ انہی چار قسم(اونٹ ،گائے بھینس، بکری، بھیڑ) کے ذریعے کیا جاسکتا ہے اور اس میں بھی شامل ہے۔
●قربانی میں شراکت●
بکرا بکری، بھیڑ دنبے کی قربانی صرف ایک فرد کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ اونٹ گائے وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ سب کی نیت تقریب یعنی عبادت اور حصول اجر و ثواب کی ہو۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "نَحَرنَا مع رسول اللَّہِ ﷺوَسَلَّمَ عَامَ الحُدَیبِیَۃالبَدَنَۃَ عن سَبعَۃٍ وَالبَقَرَۃَعن سَبعَۃ” ہم نے صلح حدیبیہ والے سال رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک ایک اونٹ اور ایک ایک گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے قُربان کی۔ (صحيح مسلم) ۔ سات سے کم افراد بھی ایک گائے کی قربانی میں برابر کے حصے دار ہوسکتے ہیں، مثلاً چھ یا پانچ یا چار یا تین یا دو حتیٰ کہ ایک آدمی بھی پوری گائے کی قربانی کرسکتا ہے، سات حصے داروں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
ایک روایت میں اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شرکت کا بھی ذکر ہے، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:
كنا مع النبی ﷺفی سفر ، فحضر الأضحى ، فاشتركنا فی البقرة سبعة ، وفی الجزور عشرة ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الأضحیٰ کا دن آگیا تو ہم سات سات افراد گائے کی قربانی میں اور اونٹ کی قربانی میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ (سنن ترمذی)۔
امام ترمذیؒ نے اونٹ کے متعلق دونوں حدیثیں ذکر کی ہیں ۔ لیکن سات والی کو ترجیح دی ہے۔ ایک روایت ابن عباسؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ عید قرباں دورانِ سفر ہی میں آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہو گئے۔ اس کو ترمذی نے حسن غریب یعنی نادر سند کی حدیث کہا ہے۔ دوسری حدیث جابرؓ کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ اور گائے کی سات آدمیوں کی طرف سے قربانی دی۔ اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے حسن اور صحیح کہا یعنی اعلیٰ پائے کی حدیث ہے اس حدیث کی تائید اور بھی بہت سی احادیث سے ہوتی ہے۔ مثلاً
مسلم میں ہے: اِشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِی ﷺ فِی الْحَجِّ كُلُّ سَبْعَةٍ مِّنَّا فِی بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِّجَابِرٍ اَيُشْتَرَكُ فِی الْبَقَرِ مَا يُشْتَرَكُ فِی الْجَزُوْرِ فَقَالَ مَا ھِی اِلَّا مِنَ الْبُدْنِ کہ حج کے موقع پر ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم فی اونٹ سات آدمی شامل ہوئے ایک شخص نے جابرؓ سے دریافت کیا، کیا گائے میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں ؟ تو جابرؓ نے کہا کہ گائے بھی اسی کے حکم میں ہے۔
تو صحیح یہی ہے کہ گائے اور اونٹ میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور یہی مسلک جمہور محدثین کا ہے امام ترمذی نے بھی یہی لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا بالعموم اور ائمہ دین مثلاً سفیان الثوریؒ، ابن المبارکؒ شافعیؒ، احمدؒ اور اسحاقؒ کا اسی پر عمل رہا اور اسی کی تائید مسلم شریف کی روایات سے ہوتی ہے۔
●جانوروں کی عمریں●
شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ان کے لیے ایک خاص عمر کی تعیین ہے، شرعی اعتبار سے قربانی کے جانوروں کی معتبر عمریں یہ ہیں:اونٹ: پانچ سال، گائے دو سال، بکرا ایک سال،دنبہ چھ ماہ، جو ان سے کم عمر ہو ان کی قربانی نہ کی جائے اور اگر کرلی جائے تو وہ غیرمقبول ہے۔ اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَذْبَحُوا إلَّا مُسِنَّةً إلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ(رواہ مسلم)۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (قربانی کے لئے ) صرف بڑی عمر کا جانور ذبح کرو (چھوٹی عمر والے جانور کی قربانی جائز نہیں)اگر بڑی عمر والا مشکل ہو تو پھر بھیڑ یا دنبہ چھ ماہ والے کو بھی قربان کر سکتے ہو۔
کتنی عمر والے جانور کو بڑی عمر کا شمار کریں گے قربانی تین قسم کے جانوروں کی ہوتی ہے بکری، گائے، اونٹ ہر جانور کے اعتبار سے اس کی بڑی یا چھوٹی عمر کا فیصلہ کیا جاتا ہے بکری، بھیڑ، دنبہ، مینڈھا وغیرہ کی عمر اگر ایک سال سے زیادہ ہو تو وہ بڑے شمار ہوتے ہیں اور اگر ایک سال سے کم ہوں تو چھوٹے شمار ہوتے ہیں۔ گائے بیل، بھینس وغیرہ دو سال کے ہوں تو بڑے ہیں اگر کم ہوں تو چھوٹے ہیں اونٹ اگر پانچ سال کا ہو تو بڑا ہے اگر پانچ سال سے کم ہو تو چھوٹا ہے۔ تو جو جانور عمر کے لحاظ سے بڑا ہو تو اس کی قربانی جائز ہو گی اگر مطلوبہ عمر سے چھوٹا جانور ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
لیکن اس حدیث میں حضوراکرمﷺ نے ایک استثناء کیا ہے کہ بھیڑ اور دنبہ اگر سال سے کم بھی ہوں لیکن چھ ماہ سے زیادہ ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے لیکن علماء کی تحقیق اس بارے میں یہ ہے کہ سال سے کم عمر دنبہ یا بھیڑ اگر اتنے موٹے تازے ہوں کہ سال والے دنبے یا بھیڑ کے برابر لگتے ہوں تو پھر تو قربانی جائز ہوگی اگر اتنے موٹے نہ ہوں تو پھر ان کی قربانی بھی جائز نہیں۔ اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئیں ہیں تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے، تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے ؛ اس لیے تاجروں کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں زیادہ عمر کا آںا ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے۔ لہذا اگر جانور کی عمر پوری ہوچکی ہوتو دانت آئیں یا نہ آئیں قربانی درست ہوجائے گی، اور یہ معلوم نہیں ہے تو پھر احتیاطاً دانت آنے پر ہی قربانی درست ہونے کا حکم لگایا جائے گا، ایسی صورت میں قربانی کرنے سے پہلے اس کے دانت آجائیں تو یقینی طور پر یہ معلوم ہوگیا ہے جانور کی عمر پوری ہوچکی ہے اس لیے اس کی قربانی درست ہے۔
●قربانی کے لئے مانع عیوب●
قربانی تقریب الی اللہ کا ذریعہ ہے، بندہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے لئے قربانی پیش کرتا ہے، اس کا مقصد دکھاوا یا گوشت کھانا نہیں ہوتا ہے، اور اللہ تک ہماری قربانیوں کا گوشت یا خون ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ ہمارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ لہذاقربانی کے لئے ایسے جانور کا انتخاب کرنا چاہئے جو صحتمند، موٹا تازہ ،صحیح وسالم اور احادیث میں بتائے ہوئے عیوب(اندھا، لنگڑا ، بیمار اورکمزور) نہ ہو۔ احادیث میں ہمیں قربانی کے جانوروں کی صحت سے متعلق واضح ہدایات ملتی ہیں،
نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا يجوزُ مِنَ الضحايا : العَوْرَاءُ الَبيِّنُ عَوَرُهَا ، والعَرْجَاءُ البَيِّنُ عَرَجُهَا ، والمريضةُ البَيِّنُ مَرَضُهَا ، و العَجْفَاءُ التي لا تُنْقِي.(صحيح النسائي)۔ ترجمہ: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، مریض جس کا مرض واضح ہو اور اتنا کمزور جانور کہ اس میں گودا تک نہ ہو۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا جانور قوی وصحت مند ہو۔ خصی ، کابھن اور دودھ دینے والے جانور کی قربانی جائز ہے۔ جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب پیدا ہوجائے مثلا ٹانگ یا سینگ یا دانت یا ہڈی ٹوٹ جائے، کان کٹ جائے،مریض ہوجا ئے تو اس کی قربانی کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ ہونی ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتااس حال میں آدمی معذور ہےلیکن اگر کوئی دوبارہ خریدنے کی طاقت رکھتا ہو اور حدیث میں مذکور چار عیبوں میں سے کوئی عیب خریدنے کے بعد پیدا ہوجائے تو دوبارہ خرید لے۔قربانی کے لئے متعین جانور بیانو ،ہدیہ کرنا یا گروی رکھناجائز نہیں ہے اور نہ ہی اسے باربرداری کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے۔ دوسری حدیث میں ہے۔
عَنْ عَلي رضي الله عنه قَالَ: "أَمَرَنَا رَسُول اللَّه صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِف الْعَيْن وَالْأُذُن، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَة وَلَا شَرْقَاء وَلَا خَرْقَاء”(رواه أبو داود والترمذي)۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان چرا ہوں یا اس کے کان میں سوراخ ہو یا اس کا کان اگلی جانب سے كٹا ہو اور نہ ایسے جانور کی قربانی کریں جس کا کام پچھلی جانب سے كترا ہوا ہو۔
ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عن علي رضي الله عنه قال:”نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يضحى بأعضب الأذن والقرن”(أبو داود)۔ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے سینگ والے اور کٹے ہوئے کان والے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
دیگر عیوب اور ان کے احکام:
1- جس جانور کے سینگ کا کچھ حصہ اوپر سے ٹوٹ گیا ہوں (یا اس کا خول اتر گیا ہو) اس کی قربانی درست ہے لیکن اگر سینگ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو یعنی دماغ کی ہڈی میں سوراخ ہو گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی
2- جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہو یا بچپن میں ہی اس کے سینگ کی جگہ آگ سے جلا دی گئی ہو جس کی وجہ سے آگے سینگ نکل سکے ہو اس کی قربانی درست ہے
3- اگر جانور کا کان تھوڑا بہت كٹا ہے تو اس کی قربانی درست ہے لیکن اگر کہ كان کا اکثر حصہ کٹ گیا ہے تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی
4- جس جانور کے کان پیدائشی طور پر نہ ہو تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی
5- جس جانور کی آنکھ کی بینائی بالکل یا اکثر سے لی گئی ہو تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی
6- جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر ٹوٹ چکے ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور جس کے دو چار دانت ٹوٹے ہوں کہ اسے چارہ کھانے میں زیادہ دشواری نہ ہوتی ہو تو اس کی قربانی میں کچھ حرج نہیں ہے
7- زبان کٹا ہوا جانور جو چلنے پر قادر نہ ہو اس کی قربانی جائز نہیں ہے
8- اگر دم کا اکثر حصہ کٹا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر معمولی حصہ کرتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے
9- جس جانور کی پیدائشی طور پر ہی دم ندارد ہو تو امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی قربانی درست ہے جبکہ امام محمد کے نزدیک اس کی قربانی جائز نہیں (اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قربانی نہ کی جائے)
10- جو جانور بالکل لنگڑا ہو یا اس قدر لنگڑا ہو کہ تین پاؤں زمین پر رکھتا ہو اور چوتھا پاوں زمین پر رکھ هی نه سکتا تو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور اگر چوتھا پاؤں زمین پر ٹیک کر لنگڑا کر چل سکتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے
11- بکری کے دوتھنوں میں سے ایک تھن خشک ہوجائے یا کاٹ دیا جائے تو اس کی قربانی درست نہ ہوگی اور اگر گائے یا اونٹنی کے دوتھن کٹ جائیں یا سوکھ جائیں تو ان کی قربانی بھی جائز نہ ہوگی لیکن اگر گائے یا اونٹنی کے چار تھنوں میں سے صرف ایک تھن کٹ جائے تو اس کی قربانی درست ہے
12- گابھن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے جبکہ ولادت کا وقت قریب ہو
13- خصی جانور کی قربانی نہ صرف جائز بلکہ افضل اور مسنون ہے کیونکہ اس کا گوشت غیر خصّی سے اچھا ہوتا ہے
14- خنثیٰ جانور (جس کے بارے میں پتہ ہی نہ چل سکے که وه نرہے یا مادہ کی) قربانی درست نہیں ہے
15- جو جانور صرف گندگی اور غلاظت کھاتا ہوں دیگر چارہ نہ کھاتا ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے
16- وحشی اور جنگلی جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے
17- اگر خریدتے وقت جانور صحیح سالم تھا لیکن بعد میں عیب دار ہوگیا تو مالدار پر اس کے بجائے دوسرے صحیح سالم جانور کی قربانی لازم ہے اور اگر فقیر ہے تو اسی عیب دار جانور کی قربانی کر سکتا ہے دوسرے جانور کی قربانی اس پر لازم نہیں ہے
18- جو جانور پہلے صحیح سالم تھا لیکن قربانی کے لئے کوشش کرتے وقت (اچھل کود وغیرہ کی وجہ سے) عیب دار ہوگیا تو اس کی قربانی میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے (مستفاد از: کتاب المسائل جلد دوم: ص 316 تا 321)۔
● ذبح کا مسنون طریقہ●
قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ احادیث میں موجود ہیں، انہیں ہدایات واحکام کی روشنی میں ہمیں مسنون طریقہ پر قربانی کے جانور ذبح کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
جانورذبح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائیں پہلو (کروٹ)پرقبلہ رخ لٹاکر’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئےتیزدھار چھری سے اس طرح ذبح کریں کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی کٹ جائے، اس کے لئے تیز اور خوب دھاردار چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ص بِحَّدِ الشِّفَارِ وَاَنْ نُّوَارٰی عَنِ الْبَہَائِمِ وَقَالَ اِذَا ذَبَحَ اَحَدُکُمْ فَلْیُجْہِزْ(ابْنِ مَاجَةَ)۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے (جانور ذبح کرنے سے قبل) چھری تیز کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ چھری کو جانور سے چھپایا جائے اور جب ذبح کرنا ہو تو جلدی جلدی ذبح کیا جائے۔
ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے ، فورا صفائی کا عمل شروع کرکے مزید اضافی تکلیف نہیں دینی چاہیے،
قربانی کرتے ہوئے یہ دو آیتیں پڑھیں
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(الأنعام:79)۔
اور قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(الأنعام: 162)۔
اور پھر یہ دُعا پڑھے
(’’اللّٰھم منک ولک‘‘)
اور پھر بسم الله،الله اکبرکہہ کر ذبح کریں۔
مسئلہ:قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یاد ہوں تویہ دونوں آیات اور دعاء’’ اللّٰھم منک ولک‘‘پڑھنا بہتر و افضل ہےاور پھر بسم اللہ ،اللہ اکبر پڑھ کرقربانی کے جانورکوتیزدھارچھری سے ذبح کردیں۔ جانور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں،
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّد وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھمَا السَّلَامُ
ترجمہ:اے اللہ! اس قربانی کو مجھ سے قبول فرما، جیسے کہ آپ نے قبول کیا اپنے حبیب حضرت محمد ﷺسے اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰة والسلام سے۔
اگر قربانی کسی دوسرے کی طرف سے یا کئی افراد کی طرف سے کی جارہی ہوتو لفظ مِنِّیْ کے بجائے مِنْ کےبعد اس شخص کایا قربانی میں شریک تمام شرکاء کا نام لئے جائیں گے،مثلا من محمد یا من احمد و حامد و محمود، لیکن تمام شرکاء کے نام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ نام لئے بغیر بھی قربانی درست ہےکیونکہ ان کا نام دل میں موجود ہوتا ہے۔
اونٹ نحر کرنے کا طریقہ*
عرفہ بن حارث کندی کہتے ہیں، میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوالحسن( علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) کو بلاؤ ،
چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا،
(سنن ابو داؤد)
زیاد بن جبیر کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
(صحیح بخاری)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے! "اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باندھ کر ( نحر کرو یہی ) تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،(مسلم)۔ ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے مرسلاً خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے،(سنن ابو داؤد)۔ خلاصہ یہ کہ اونٹ کی قربانی کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اسے اس طرح کھڑا کریں کہ اس کی اگلی بائیں ٹانگ کو ران کے ساتھ ملا کر باندھ دیں اور تین ٹانگوں پر کھڑا کر دیں، پھر تکبیر پڑھ کر اس کے سینے اور گردن کی جڑ کے درمیان والے گڑھے میں نیزہ، خنجر یا تیز دھار والا کوئی آلہ ماریں جس سے اس کی شہ رگ کٹ جائے،
قربانی کے آداب
1- قربانی کے جانور کو چند روز پہلے پالنا افضل ہے۔
2- جانور کو آرام وپیار سے قربان گاہ تک لایا جائے،سختی کے ساتھ گھسیٹ کرنہ لے جایا جائے،حضرت ابنِ سیرین رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھاکہ وہ بکری کو ذبح کرنے کے لیے پاوٴں سے گھسیٹ کر لے جا رہاتھا،تو آپ نے فرمایا کہ ”تیرا ناس ہو ،اس بکری کو موت کی طرف اچھی طرح ہنکاوٴ“
3- حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ذبح کئے جانے والے جانور پر رحم کیاتو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر رحم فرمائیں گے۔
4- قربانی سے پہلے چھری کو خوب تیز کرلیا جائے۔
5- جانور کے سامنے چھری تیزنہ کی جائے،بلکہ اس سے چھپاکر یا پہلے ہی سے تیز کی جائے،کیوں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی چھری تیز کرے تو وہ بکری کے سامنے تیز نہ کرے۔
6- ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے۔
7- ذبح کے بعد جب تک جانور پوری طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے اس کو کاٹا یا کھال نہ اتاری جائے۔
●اپنی قربانی خود ذبح کریں●
قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا سنت ہے،اگر خود ذبح نا کر سکیں تو کسی دوسرے سے ذبح کروا لیں تو بھی کوئی حرج نہیں، انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں! کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔(صحیح بخاری)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں!
کہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی،(صحیح بخاری)۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر نحر کی جگہ آئے اور جو سو اونٹ آپ ساتھ لے کر آئے تھے ان میں سے تریسٹھ اونٹ آپ نے اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔(صحیح مسلم)
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی،(صحیح بخاری)۔ ان تمام احادیث یہ بات سمجھ آئی کہ
نبی کریم ﷺ عام طور پر اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور خود ذبح کرتے اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے 63 اونٹ خود ذبح کئے اور 37 اونٹ حضرت علیؓ نے ذبح کیے، تو معلوم ہوا کہ قربانی دینے والوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہئے اور یہی افضل ہے اور کسی کی طرف سے وکالتاً ذبح کرنا بھی جائز ہے،
جیسا کہ حضرت علیؓ نے کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی عورتوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی تھی۔
●قربانی کا گوشت●
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے قُربانی کے گوشت کی تقسیم کے بارے میں فرمایا "کُلُوا وَاَطعِمُوا وَادَّخِرُوا” کھاؤ اور کِھلاؤ اور محفوظ کر لو(صحیح البخاری)،
اور صحیح مُسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”فَکُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا” پس کھاؤ اور محفوظ کرو اور صدقہ کرو”،
بہتر یہ ہے کہ قربانی کرنے والا گوشت کے تین حصے بنا کر ایک حصہ صدقہ کر دے یعنی غریبوں کو دے دے، ایک حصہ دوستوں، رشتہ داروں میں تقسیم کر دے اور ایک حصہ اپنے پاس رکھ لے۔ اگر خود زیادہ ضرورت ہو تو زیادہ بھی رکھ سکتا ہے اور ضرورت کم ہو تو زیادہ صدقہ بھی کر سکتا ہے۔ بلکہ ہونا بھی یہی چاہیے کہ جتنا ہو سکے غریب غرباء کو گوشت دیا جائے۔ چونکہ کہ امیر لوگ تو سارا سال بھی کھاتے رہتے ہیں، لیکن غریب غرباء جو سارا سال ترستے رہتے ہیں، وہ بھی عید کے ایام میں پیٹ بھر کر کھائیں گے تو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہو گی۔
لہذا کھانے پینے والی اشیاء ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے بہتر عمل یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس گوشت ضرورت سے زیادہ جمع ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کر دے تاکہ اللہ تعالی کی نعمتوں کی بے ادبی ہونے سے بچ جائے اور گوشت ضائع ہونے سے بھی بچ جائے۔ اللہ تعالی صاحب استطاعت لوگوں کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالی ہم سب کو ایمان و احتساب اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العلمین ۔
سوشل میڈیا پر شیئر کریں
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- More