???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ١٢ذی قعدہ١٤٤٠ھ
???? ١٦ جولائی2019
???? بروز۔ *منگل* ؛
????کتاب المعاملات والمعاشرت????
???? *حدیث النبیﷺ*
???? *.خدمت اور حسن سلوک کافر و مشرک ماں کا بھی حق ہے.* ????
????.حدیث نمبر: 1406
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ صِلِيهَا» (رواه البخارى ومسلم)
ترجمہ:حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور قریش مکہ کے (حدیبیہ والے) معاہدے کے زمانہ میں میری ماں جو اپنے مشرکانہ مذہب پر قائم تھی (سفر کر کے مدینے میں) میرے پاس آئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ کچھ خواہش مند ہے ، تو کیا میں اس کی خدمت کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! اس کی خدمت کرو (اور اس کے ساتھ وہ سلوک کرو جو بیٹی کو ماں کے ساتھ کونا چاہئے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)..أوکماقال النبی ﷺ۔
(مستفاد:معارف الحدیث
???? *۔معارف الحدیث حدیث نمبر۔١٤٠٦۔۔* ????
????????????????????????????????????????????????
????کتاب النکاح ????
???? *آج کامسٸلہ* ????
???? *۔مجلس نکاح میں برقع پوش عورت کا نکاح۔* ؟????
???? ۔اگر عورت مجلس نکاح میں برقع پہن کر موجود ہواور نکاح کے وقت اس کا چہرہ ڈھکا ہوا ہو اور قاضی نے اس کی طرف اشارہ کر کے لڑکے سے قبول کرنے کے لئے کہا اور لڑکے نے قبول کر لیا تو نکاح درست ہو جائے گا بشرطیکہ کے گواہ لوگ اس عورت کو جانتے ہو تاہم بہتر یہ ہے کہ نکاح کے وقت یا تو لڑکی اپنا چہرہ کھول دے یا پھرلڑکی کے باپ دادا کا نام لیا جائے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:کتاب المساٸل
???? *۔۔فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 66 فتاویٰ شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 274۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار
HIDAYATULLAH
KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں۔
CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????