وکالت نکاح
جس طرح زوجین کو خود مجلس نکاح میں حاضر ہو کر نکاح کرنا درست ہے اسی طرح وکالت کے طور پر بھی نکاح کرنا درست ہے مثلاً لڑکا یا لڑکی کی طرف سے کوئی شخص وکیل بن کر مجلس نکاح میں حاضر ہو اور وہ اپنے مؤکل یامؤکلہ کی طرف سے دو گواہوں کے سامنے […]
جس طرح زوجین کو خود مجلس نکاح میں حاضر ہو کر نکاح کرنا درست ہے اسی طرح وکالت کے طور پر بھی نکاح کرنا درست ہے مثلاً لڑکا یا لڑکی کی طرف سے کوئی شخص وکیل بن کر مجلس نکاح میں حاضر ہو اور وہ اپنے مؤکل یامؤکلہ کی طرف سے دو گواہوں کے سامنے […]
نکاح کا وکیل اپنی جگہ دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا لیکن اگر بنا دیا اور دوسرے نے اصل وکیل کی موجودگی میں نکاح پڑھایا تو یہ نکاح وکالت کے طور پر درست ہوجائے گا اور اس میں کوئی خرابی نہیں رہے گی جیسا کہ ہمارے عرف میں وکیل کی اجازت سے قاضی کے نکاح
نکاح کے وکیل کا دوسرے کو وکیل بنانا Read More »
نکاح کے وقت عاقدین اور گواہوں کامجلس نکاح میں ہونا ضروری ہے، اور یہ ٹیلیفون پر ممکن نہیں اس لیے ٹیلیفون پر نکاح جائز نہیں البتہ اگر وہ شخص ٹیلیفون پر کسی کو اپنا وکیل بنادے کہ وہ اس کی طرف سے فلاں لڑکی کے نکاح کو قبول کرلے پھر یہاں مجلس نکاح منعقد کی
ٹیلیفون پرنکاح کی صورت Read More »
جس طرح مرد کے لیے نکاح میں وکیل بننا جائز ہے اسی طرح عورت کا بھی دوسرے کے نکاح کا وکیل بننا جائز ہے البتہ اگر عورت کو کسی مرد نے اپنے نکاح کا وکیل بنایا تو وہ عورت اِس وکالت کی بنیاد پر اُس مرد سے خود نکاح نہیں کر سکتی پس اگر وہ
عورت کو نکاح میں وکیل بنانا Read More »
کسی نےایک شخص کو وکیل بنایا کہ فلاں عورت سے اتنے روپے پر میرا نکاح کرا دے وکیل نےمؤکل کے متعین کردہ مہرمیں اپنی طرف سے اضافہ کرکے اس عورت سے مؤکل کا نکاح کرا دیا تو یہ اضافہ شدہ مہر نافذ نہ ہوگا لیکن اگر خلوت اور بیوی سے صحبت کرنے کے بعد مہر
وکیل کا اپنی طرف سے مہر میں اضافہ کرنا Read More »
مؤکل نے وکیل بناتے وقت وکیل سے کہا کہ میری شادی فلانے قبیلے میں اور فلاں برادری میں کرا دینا لیکن انہوں نے اس کی مرضی کے خلاف دوسرے خاندان اور دوسری برادری میں اس کی شادی کرادی تو یہ نکاح جائز نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاویٰ ہندیه جلد نمبر 1
وکیل نے دوسرے خاندان میں شادی کرادی Read More »
مہر عورت کا حق ہے، عورت اپنی خوش دلی سے اپنا پورا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو معاف ہو جاتا ہے، لہذا اگربیوی نے بغیر کسی جبر واکراہ کے زبانی معاف کردیے تھے تو اب دوبارہ اسےمطالبہ کا حق نہیں ہے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:فتاوی بنوریہ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع
مہرمعاف کرنےکےبعددوبارہ مطالبہ کرنا Read More »
بیوی کے مرض الموت میں شوہرکے لئے مہر معاف کرانا شرعاً معتبر نہیں ہے کیونکہ یہ معافی محض رسمی ہوتی ہے دلی رضامندی سے نہیں ہوتی لہذا ایسی صورت میں مہر کی رقم بیوی کے ترکے میں شامل ہوکر اس کے وارثین میں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المسائل البحر
مرض الموت میں مہر معاف کرانے سے معاف نہیں ہوتا Read More »
نکاح کے بعد اگر شوہر یا بیوی نے متعین کے ہوئے مہر میں کمی زیادتی کی اور اس کو رضامندی اور چاہت کے ساتھ دوسرے نے قبول کرلیا تو اصل مہر کے ساتھ یہ کمی زیادتی بھی لازم ہوجائے گیواللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المسائل فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 252 فتاوی شامی
نکاح کے بعد مہر میں کمی زیادتی کرنا Read More »
نکاح میں طے شدہ مہر کے بارے میں اگر میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے مثلا شوہر کم مہر کا دعوی کرتا ہے اور بیوی زیادہ بتاتی ہے اور گواہ کسی کے پاس نہیں ہے تو ایسی صورت میں شوہر کى بات کا اعتبار ہوگا اور اگر دونوں اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دیں تو
مقدار مہر میں زوجین کا اختلاف Read More »
مہر معاف ہوسکتا ہے بشرطیکہ عورت کسی جبر و دباوٴاورزبردستی کے بغیر اپنی خوشی سے معاف کردے، زبردستی معاف کرانے سے مہر معاف نہیں ہوگا،بلکہ وہ اسی پہلےکی طرح ہی شوہرکےذمہ میں باقی رہیگا ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند لابد من صحة حطھا من الرضی حتی لو کانت مکرھة لم یصح (فتاوی ہندیہ جلد١ہندیة
بیوی سےمہرمعاف کرانا Read More »
اگر کسی نے بیوی کو متعینہ مہر کے بدلے کوئی مکان فلیٹ یا جائیداد کا حصہ دے دیا اور بیوی اس کو لینے پر راضی ہوجائے تو اس کا مہر ادا ہوجائے گا۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 247 فتاوی ہندیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 322 ھدایہ جلد
مہر کے بدلے جائیداد یا مکان دینا Read More »