احکام ومسائل

درج ذیل فہرست پر کلک کر کے آپ مطلوبہ مسائل تک پہنچ سکتے ہیں۔


فہرست


1. قربانی سے متعلق مسائل

2. قربانی کے جانور سے متعلق مسائل

3. ذبح سے متعلق مسائل


نماز کسوف کا وقت اور اس میں قرأت کا حکم

جس وقت سے سورج گرہن شروع ہوا اور جب تک گرہن کا اثر باقی رہے اس وقت تک نماز کسوف پڑھی جاسکتی ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہوامام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ نماز کسوف میں امام آہستہ قرأت کرے گا لیکن امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ جہری قرأت کے […]

نماز کسوف کا وقت اور اس میں قرأت کا حکم Read More »

مغرب عشاء اور ظہر میں قنوت نازلہ پڑھی جانے والی احادیث منسوخ ہیں

بخاری اور مسلم کی جن روایات میں عشا، مغرب، اورظہر میں قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے وہ سب منسوخ ہیں اسلئے حضرات حنفیہ کے یہاں دیگر نماز میں قنوت نازلہ پڑھنا مشروع نہیں ہے لہذا ہمیں حنفیہ کے مفتیٰ بہ قول پر عمل کرنا چاہیے یعنی فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں قنوت نازلہ

مغرب عشاء اور ظہر میں قنوت نازلہ پڑھی جانے والی احادیث منسوخ ہیں Read More »

جمعہ کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے کی شرعی حیثیت

حنفیہ کے نزدیک قنوت نازلہ فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں پڑھنا مسنون نہیں ہے لہذا جمعہ کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنا خلاف سنت ہے پھر بھی اگر کسی نے پڑھ لی تونماز جمعہ بلاشبہ درست ہو جائے گی ۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:فتاوی قاسمیہ فتاوی شامی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 499 اعلاء

جمعہ کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے کی شرعی حیثیت Read More »

قنوت نازلہ میں ملکوں اور شہروں کے نام کا اضافہ کرنا

قنوت نازلہ چونکہ مسلمانوں پرحادثات اور مصیبتوں کے پیش آنے پر پڑھی جاتی ہے لہذا اس میں حالات و واقعات کے اعتبار سے مظلومین کے حق میں ان کے شہروں اور ملکوں کے نام لے کر دعا کرنا اور ظالمین کے حق میں ان کی ہلاکت و بربادی کے لیے انکے ملکوں اور شہروں کے

قنوت نازلہ میں ملکوں اور شہروں کے نام کا اضافہ کرنا Read More »

قنوت نازلہ پڑھنےکاحکم

قنوت دعا کو کہتے ہیں اور نازلة کے معنی مصیبت کے ہیں، جب مسلمانوں پر کوئی عام مصیبت آجائے ، مثلا: کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عمومی طور پر ظلم و ستم ہونے لگے ، تو ایسے موقع پر قنوت نازلہ کا پڑھنا صحیح اور معتبر روایات سے ثابت ہے ، حضور صلی اللہ

قنوت نازلہ پڑھنےکاحکم Read More »

مہرمعاف کرنےکےبعددوبارہ مطالبہ کرنا

مہر عورت کا حق ہے، عورت اپنی خوش دلی سے اپنا پورا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو معاف ہو جاتا ہے، لہذا اگربیوی نے بغیر کسی جبر واکراہ کے زبانی معاف کردیے تھے تو اب دوبارہ اسےمطالبہ کا حق نہیں ہے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:فتاوی بنوریہ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع

مہرمعاف کرنےکےبعددوبارہ مطالبہ کرنا Read More »

مرض الموت میں مہر معاف کرانے سے معاف نہیں ہوتا

بیوی کے مرض الموت میں شوہرکے لئے مہر معاف کرانا شرعاً معتبر نہیں ہے کیونکہ یہ معافی محض رسمی ہوتی ہے دلی رضامندی سے نہیں ہوتی لہذا ایسی صورت میں مہر کی رقم بیوی کے ترکے میں شامل ہوکر اس کے وارثین میں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المسائل البحر

مرض الموت میں مہر معاف کرانے سے معاف نہیں ہوتا Read More »

نکاح کے بعد مہر میں کمی زیادتی کرنا

نکاح کے بعد اگر شوہر یا بیوی نے متعین کے ہوئے مہر میں کمی زیادتی کی اور اس کو رضامندی اور چاہت کے ساتھ دوسرے نے قبول کرلیا تو اصل مہر کے ساتھ یہ کمی زیادتی بھی لازم ہوجائے گیواللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المسائل فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 252 فتاوی شامی

نکاح کے بعد مہر میں کمی زیادتی کرنا Read More »

مقدار مہر میں زوجین کا اختلاف

نکاح میں طے شدہ مہر کے بارے میں اگر میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے مثلا شوہر کم مہر کا دعوی کرتا ہے اور بیوی زیادہ بتاتی ہے اور گواہ کسی کے پاس نہیں ہے تو ایسی صورت میں شوہر کى بات کا اعتبار ہوگا اور اگر دونوں اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دیں تو

مقدار مہر میں زوجین کا اختلاف Read More »

بیوی سےمہرمعاف کرانا

مہر معاف ہوسکتا ہے بشرطیکہ عورت کسی جبر و دباوٴاورزبردستی کے بغیر اپنی خوشی سے معاف کردے، زبردستی معاف کرانے سے مہر معاف نہیں ہوگا،بلکہ وہ اسی پہلےکی طرح ہی شوہرکےذمہ میں باقی رہیگا ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند لابد من صحة حطھا من الرضی حتی لو کانت مکرھة لم یصح (فتاوی ہندیہ جلد١ہندیة

بیوی سےمہرمعاف کرانا Read More »

مہر کے بدلے جائیداد یا مکان دینا

اگر کسی نے بیوی کو متعینہ مہر کے بدلے کوئی مکان فلیٹ یا جائیداد کا حصہ دے دیا اور بیوی اس کو لینے پر راضی ہوجائے تو اس کا مہر ادا ہوجائے گا۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 247 فتاوی ہندیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 322 ھدایہ جلد

مہر کے بدلے جائیداد یا مکان دینا Read More »

بیوی کاانتقال ہوگیااورابھی مہرادانہیں کیا

بیوی کے انتقال کے بعد مہر کی رقم ترکہ ہوگئی جس کی تقسیم بیوی کے ورثاء کے درمیان ان کے حصےکے اعتبار سے ہوگی ،ورثاء میں شوہر بھی داخل ہے ،اگر اس بیوی سے کوئی اولاد ہے تو شوہر رُبع(چوتھاٸی حصہ) کا مستحق ہوگا ورنہ نصف(آدھاحصہ) کا ،نیزاولا دہونے کی صورت میں ترکہ میں اس

بیوی کاانتقال ہوگیااورابھی مہرادانہیں کیا Read More »