گونگوں کے نکاح میں بہروں کی گواہی

اگر دونوں عاقدین قوت گویائی سے محروم ہوں اور متعینہ اشارے سے ایجاب قبول کریں تو چونکہ یہاں سننے سنانے کا امکان ہی نہیں ہےلہذا ایسے گونگے حضرات کےنکاح میں بہرے حضرات کا گواہ بننا بھی درست ہوگا بشرطیکہ وہ نکاح کا اشارہ اچھی طرح سمجھتے ہوں۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی شامی جلد […]

گونگوں کے نکاح میں بہروں کی گواہی Read More »

نکاح میں مخنث کی گواہی

اگر نکاح کی گواہی میں صرف دو مخنث ہوں اس میں کوئی مرد نہ ہو تو پھر اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک کامل مرد نہ ہو۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی ہندیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر268 فتاوی تاتارخانیہ جلد نمبر 4 صفحہ

نکاح میں مخنث کی گواہی Read More »

نکاح میں اپنے بیٹوں کا گواہ بنانا

اگر نکاح میں عاقدین کے بیٹے (یعنی جو پہلے شوہر یا پہلی بیوی سےہوں) گواہ بنیں تب بھی درست ہے اور اس سے نکاح منعقد ہوجاٸیگا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 93 ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر

نکاح میں اپنے بیٹوں کا گواہ بنانا Read More »

نکاح میں محدود فی القذف اور محدود فى الزنا کی شہادت کا حکم

اگر کسی مسلمان شخص پر زنا کی تہمت لگانے یا زنا کرنے کی وجہ سے اسلامی حکومت میں حد اور سزا جاری ہوئی ہو تو ایسا شخص بھی نکاح میں گواہ بن سکتا ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ ثقہ اور معتبر لوگوں کو ہی گواہ بنایا جائے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل اعلاء السنن

نکاح میں محدود فی القذف اور محدود فى الزنا کی شہادت کا حکم Read More »

ذمیوں کی شہادت سے نکاح کا حکم

اگر شوہر مسلمان ہو اور عورت ذمیہ (کتابیہ)ہو تو ان دونوں کا نکاح دو کافر ذمیوں کی گواہی سے درست ہو جائے گا لیکن اگر دونوں میاں بیوی مسلمان ہوں تو پھر ان کافر ذمیوں کی گواہی ان کے حق میں معتبر نہیں ہوگا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی ہندیہ جلد١صفحہ٢٦٧ مجمع الأنھرجلد١صفحہ٤٧٤ ناقل✍ہدایت

ذمیوں کی شہادت سے نکاح کا حکم Read More »

گواہوں کا الگ الگ وقت میں ایجاب و قبول کا سننا

دونوں گواہوں کا ایک ساتھ ایجاب و قبول کا سننا شرط ہے لہذا اگر ایک گواہ کے سامنے ایجاب و قبول کیا گیا پھر وہ مجلس سے چلا گیا پھر دوبارہ عقد ہوا پھر دوسرے نے ایجاب و قبول کو سنا یا پھر ایک نے صرف ایجاب سنا اور دوسرے نےقبول تو ان صورتوں میں

گواہوں کا الگ الگ وقت میں ایجاب و قبول کا سننا Read More »

ولایت اجبار

نابالغ یا پاگل بچہ یا بچی پر قریب ترین ولی کو ولایت اجبار حاصل ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی رضامندی کے بغیر اگر کہیں نکاح کر دیتا ہے تو اس کا نکاح کیا ہوا نافذ ہوجائے گا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر

ولایت اجبار Read More »

تحقق ولایت کے لئے کن شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے

ولایت کے تحقق کے لئے بنیادی طور پر تین شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ١۔ *آزاد ہونا* لہذا غلام کو ولایت حاصل نہ ہوگی۔ ٢۔ *مکلف ہونا* لہذا نابالغ یا مجنون کو ولایت حاصل نہ ہوگی۔ ٣۔ *مسلمان ہونا* کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہ ہوگی (البتہ ایک کافر دوسرے کافر کا ولی

تحقق ولایت کے لئے کن شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے Read More »

ان حالات میں اپنی نافعیت ضرورثابت کیجئے

*محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ* *اس* *امت* کو *اللہ تعالی* نے *خیر امت* کے لقب سے ملقب کیا اور تمام امتوں سے اس کو ممتاز اور فائق بنایا ۔ اس *امت* کو یہ امتیاز اور بلند رتبہ ان کی نافعیت کی بنیاد پر دیا گیا کہ اس *امت* کا وجود ہی لوگوں

ان حالات میں اپنی نافعیت ضرورثابت کیجئے Read More »

اگر میں نے تمہاری چیز کھائی تو وہ مجھ پر حرام ہے کہنے سے قسم کا حکم

اگر کسی شخص نے کسی کو یہ کہا کہ مثال کے طور پر اگر میں نے تمہاری فلاں چیز کھائی تو مجھ پر حرام ہے تو اس طرح کہنے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے اگر وہ شخص اس چیز کو جان بوجھ کر یا انجانے میں کھا لیتا ہے تو اس پر قسم کا

اگر میں نے تمہاری چیز کھائی تو وہ مجھ پر حرام ہے کہنے سے قسم کا حکم Read More »

अगर मैंने तुम्हारी चीज खाई तो मुझ पर हराम है कहने से कसम का हुकुम

यदि किसी व्यक्ति ने किसी से यह कहा उधार न के तौर पर कि अगर मैंने तुम्हारी चीज खाई तो मुझ पर हराम है तो इस तरह कहने से कसम लागू हो जाती है फिर अगर वह व्यक्ति उसकी चीज को जानबूझकर या अनजाने में खा लेता है तो उस पर कसम का कफ्फरा लाजिम

अगर मैंने तुम्हारी चीज खाई तो मुझ पर हराम है कहने से कसम का हुकुम Read More »

قرآن کی جھوٹی قسم کھالے تو اس کا فدیہ کیا ہے

قرآن کی جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے، اگر جھوٹی قسم ماضی کے بارے میں ہے تو اس کا کفارہ فقط یہ ہے کہ اس سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسی جھوٹی قسم کھانے سے احتراز کرے، اور اگر قسم آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ہے پھر وہ اپنی

قرآن کی جھوٹی قسم کھالے تو اس کا فدیہ کیا ہے Read More »